حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 377

حقائق الفرقان ۳۷۷ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ۴۸ - نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَ إِذْهُمْ نَجْوَى إِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا - ترجمہ ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں جس لئے وہ سنتے ہیں جب وہ کان لگا دیتے ہیں تیری طرف اور جب وہ کانوں میں باتیں کرتے ہیں جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے آدمی کے پیچھے ہوئے ہو جو دل فریبندہ (اور صبح شام اول وقت کھانا کھانے والا ) جادو کیا گیا ہے۔ تفسیر - رَجُلًا مَسْحُورًا مسحور کے تین معنے کئے ہیں۔ا۔ اسم مفعول کا صیغہ ۔جس پر سحر کیا گیا۔ ۲۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے۔ کوئی چیز جب اپنے کمال کو پہنچ جاوے تو مبالغہ کے لئے اس کے اسم فاعل کو اسم مفعول بنا دیتے ہیں یا برعکس نام لیتے ہیں ۔ مثلاً بہت سیاہ حبشی کا کا فور نام رکھ دیتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں بھی ایسا کر لیتے ہیں۔ جیسے چلتی کا نام گاڑی۔ پس جو بڑا ساحر ہوا سے مسحور کہہ دیتے ہیں ۔ ۳۔ مسحور سحری کھانے کو کہتے ہیں ۔ پس مسحور کے معنے ہوئے ۔ کھانے والا ۔ عربی کا شعر سناتا ہوں ۔ فَإِن تَسْتَلِيْنَا فِيمَ نَحْنُ فَإِنَّمَا عَصَافِيرُ مِنْ هَذَا الْأَنَامِ المُسَخَّرِ - اس شعر میں مستحر کے معنے کھانے والے کے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور طعن کہتے مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ (المومنون : ۳۴) گویا ان کے نزدیک نبی کھانے والا نہیں چاہیے۔ ج ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۱) ۵۲ - أَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا - ترجمہ ۔ یا جو مخلوق تمہارے خیال میں بڑی سخت ہو تو قریب ہی کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ ے اور اگر تو ہم سے سوال کرے کہ ہم کن میں سے ہیں۔ تو معلوم ہو کہ ہم چڑیاں ہیں اس کھانا کھانے والی مخلوق کی۔ ہے وہ بھی کھاتا ہے اسی قسم سے جس سے تم کھاتے ہو اور پیتا ہے جس میں سے تم پیتے ہو۔