حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 350
حقائق الفرقان ۳۵۰ سُورَة النَّحل عیب شماری سے کوئی نیک نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔ کسی کا عیب بیان کیا اور اس نے سن لیا۔ وہ بغض و کینہ میں اور بھی بڑھ گیا۔ پس کیا فائدہ ہوا؟ بعض لوگ بہت نیک ہوتے ہیں اور نیکی کے جوش میں سخت گیر ہو جاتے ہیں ۔ اور امر بالمعروف ایسی طرز میں کرتے ہیں کہ گناہ کرنے والا پہلے تو گناہ کو گناہ سمجھ کر کرتا تھا پھر جھنجلا کر کہہ دیتا ہے کہ جاؤ ہم یونہی کریں گے۔ امر بالمعروف کرتے ہوئے کسی نے ایک بادشاہ کا مقابلہ کیا۔ بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس پر ایک بزرگ نے کہا کہ امر بالمعروف کا مقابلہ گناہ تھا مگر ایک مومن کا قتل اس سے بھی بڑھ کر امر سخت گناہ ہے واعظ کو چاہیے کہ اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ پر عمل کرے اور ایسی طرز میں کلمہ حکمت گوش گزار کرے کہ کسی کو برا معلوم نہ ہو۔ تم لوگ جو یہاں باہر سے آئے ہو۔ اگر کوئی نیک بات یہاں والوں میں دیکھتے ہو یا یہاں سے سنتے ہو تو اس کی باہر اشاعت کرو اور اگر کوئی بری بات دیکھی ہے تو اس کے لئے دردِ دل سے دعا ئیں کرو کہ النبی اب لاکھ با ر و پے خرچ ہو کر یہ ایک قوم بن چکی ہے۔ اور یہ قوم کے امام بھی بن گئے ہیں۔ پس تو ان میں اصلاح پیدا کر دے۔ البدر جلد ۸ نمبر ۱۴ مورخه ۲۸ جنوری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰) ۱۲۷ - وَ إِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّبِرِينَ - ترجمہ ۔ اگر تم بدلہ دو تو اسی قدر بدلہ دو جتنی تم کو ایذا دی گئی ہے اور اگر تم نیکیوں پر جمے رہو اور برائیوں سے بچتے رہو تو یہ تو بہت ہی بہتر ہے صابروں کے لئے ۔ تفسیر ۔ یہ ایک خطر ناک مرض ہے جس کو شریعت میں سوء ظن کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں اور ہزاروں قسم کی نکتہ چینیوں سے دوسروں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور اسے حقیر بنانے کی فکر میں ہیں مگر یاد رکھو۔ وَ إِنْ عَاقَبتُم (الآیۃ ) عقاب کے معنے جو پیچھے آتا ہے۔ انسان جو بلا وجہ دوسرے کو بدنام کرتا ہے اور سوء ظن سے کام لے کر اس کی تحقیر کرتا ہے۔ اگر وہ شخص اس بدی میں مبتلا نہیں۔ جس بدی کا سوءظن والے نے اسے متہم ٹھہرایا ہے۔ تو یہ یقینی بات ہے کہ سوء ظن کرنے والا ہرگز