حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 23
حقائق الفرقان ۲۳ سُورَةُ الْأَنْفَال ۴۷۔ وَ أَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَ اصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصُّبِرِينَ - ترجمہ۔ اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور آپس میں نہ لڑو کہ ہمت ہار دو گے، پھسل جاؤ گے اور تمہاری ہوا بگڑ جائے گی، اور نیکیوں پر جمے رہو اور بدیوں سے بچتے رہو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تفسیر وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُکم ۔ اس کا معنی ہے اور آپس میں تنازع مت کرو۔ اگر کرو گے تو پھسل جاؤ گے اور تمہاری ہوا ( قوت، طاقت ، رعب، نفاذ حکم ) بگڑ جائے گی سو حکم کی خلاف ورزی کا صحیح نتیجہ نکلا۔ نہی کا منشاء تھا کہ با ہم پھوٹ نہ کرنا۔ پس جب نہی کی خلاف ورزی ہوئی ۔ اس کا ثمرہ ملا ۔ اب بھی بعض ریاستیں صرف اس لئے قائم ہیں کہ بر بادشدہ ریاستوں کی وجوہ بر بادگی بیان کریں ۔ مگر اسلامی یک جہتی، وحدت کتاب، وحدت کلمه، اعمال ضرور یہ اور ظہور امام واحد یقین دلاتا ہے کہ بہار کے دن ہیں ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وحدت اعمال رب العلمين - کیا روز افزوں ترقی کو ہر روز ہم نہیں دیکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں اور آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں کہ اسلام کا انجام بخیر ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۷۸) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور ان کی اطاعت اسی حال میں کر سکو گے جبکہ تم میں میں کر تنازع نہ ہو۔ اگر تنازعات ہوں گے تو یا درکھو کہ قوت کی بجائے تم میں بزدلی پیدا ہو گی اور جو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہوگی وہ نکل جاوے گی ۔ یہ بات تم کو صبر اور تحمل سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کے ہو سکتی ہے۔ ان کو اپنے اندر پیدا کرو۔ تب خدا کی معیت تمہارے شامل حال ہو کر وحدت کی روح پھونکے گی ۔ پس اگر تم کوئی طاقت اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہو اور مخلوق کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتے ہو تو صبر اور تحمل سے کام لو اور تنازع مت کرو۔ اگر چشم پوشی سے باہم کام لیا جاوے تو بہت کم نوبت فساد کی آتی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ لوگ جسمانی بیماریوں کے لئے تو علاج اور دوا تلاش کرتے ہیں لیکن روح کی بیماری کا فکر کسی کو بھی نہیں ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی حالت کی مثال ایک جنم کے اندھے کی سی ہے کہ اس سے اگر ،