حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 319
حقائق الفرقان ۳۱۹ سُورَة النَّحل پھر یوں سمجھو کہ ان میں لا إِلهَ إِلَّا الله نہ تھا۔ وہ اپنی سطوت اور جبروت دکھاتے ۔ ایک پلے (کتی کے بچے ) کے مرجانے پر خون کی ندیاں بہا دینے والے اور قبیلوں کی صفائی کر دینے والے تھے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کا بول بالا کرنے کے واسطے ان میں اس وقت تک سکت نہ تھی جب تک کہ پاک روح مطہر و مز کی معلم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ظہور فرمایا۔ یہ وہ وقت تھا جبکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ الروم : ۴۲) کا نقشہ پورے طور پر کھینچا گیا تھا۔ سماوی مذاہب جو کہلاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں کے پڑھنے کا دعویٰ کرتے تھے باوجود اس کے کہ اپنے آپ کو مقربانِ بارگاہ الہی کہتے ۔ نَحْنُ ابْنَوا اللهِ وَ أَحِبَّاؤُنَ (المائدة: ١٩) ۔ مگر حالت یہاں تک خراب ہو چکی تھی کہ عظمت الہی اور شفقت علی خلق اللہ کا نام ونشان تک نہ پایا جاتا تھا۔ اور دنیوی ڈھکو سلے والوں کی حالت بھی بگڑ چکی تھی ۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ مکہ والوں کو آگاہ کرتا اور بتاتا ہے کہ تم آبگم ہو صنادید مکہ میں سے ابو جہل ہی کو دیکھ لو۔ اس کے افعال و اعمال اس کے اخلاق صاف طور پر بتاتے ہیں کہ وہ دنیا کے لئے ہرگز ہرگز خیر و برکت کا موجب نہیں۔ یہ صرف صرف اسی پاک ذات کے لئے سزاوار ہے کہ وہ دنیا کی اصلاح اور فلاح کے لئے مامور ہوا۔ جس کا پاک نام ہی ہے محمد واحمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جس نے اپنی پاک تعلیم ، اپنی مقدس و مطہر زندگی اور بے عیب چال چلن اور پھر اپنے طرز عمل اور نتائج سے دکھا دیا کہ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) میں اپنے اللہ کا محبوب ہوں ۔ تم اگر اس کے محبوب بننا چاہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اتباع کرو۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۳ تا صفحه ۶) فرمایا ۔ دو قسم کے غلام ہوتے ہیں ۔ اَحَدُهُمَا ابْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلهُ أَيْنَمَا يُوجِهُهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ - گونگا کسی چیز پر قادر نہیں ۔ جہاں جائے کوئی خیر نہ لائے ۔ دوم وہ جو يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ عدل پر چلتا ، عدل کا حکم کرتا ہے اور صراط مستقیم پر ہے۔ اب ان میں سے وہی پسند ہو گا جو مولی کا خدمت گزار ہوگا۔ الفضل جلد نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۱۵) ا ظاہر ظاہر ہو گیا فساد خشکی اور تری میں ۔ ہے ہم اللہ کے بیٹے ہیں او بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔