حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 273
حقائق الفرقان ۲۷۳ سُوْرَةُ الْحِجْرِ ۳۵- قَالَ فَاخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَحِيمٌ - ترجمہ ۔ اللہ نے فرمایا تو اس حالت مذموم سے الگ ہوجا کیونکہ تو ہلاک شوندہ ہے۔ تفسیر - فَاخْرُجُ مِنْهَا۔ نکل جا تو اس مرتبہ سے۔ دو فَإِنَّكَ رَحِيمٌ ۔ کیونکہ تو دھتکارا ہوا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ صفحه ۱۴۱) ۳۷ تا ۳۹ ۔ قَالَ رَبِّ فَانْظِرْنِي إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ - قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ - إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ۔ ترجمہ۔ شیطان نے کہا اے میرے رب ! مجھے مہلت دے اس وقت تک جب لوگ تبدیلی کریں گے۔ ارشاد ہوا تجھ کو تو مہلت ہی ہے ۔ ایک معین وقت تک ۔ تفسیر - فانظرنی ۔ یہ اس کی خواہش ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ شیطان کی یہ خواہش پوری ہوئی غلطی کرتے ہیں۔ ہاں فرمایا۔ اِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ - ہر آدمی کے ساتھ بقدر اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ نیک انسان بیدار ہو جاتا ہے۔ پھر شیطان کا داؤ اس پر نہیں چلتا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۱) إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ - ابلیس مر چکا۔ اس کی اولاد ہی چلتی ہے۔ تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۲) ۴۰- قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيَّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - ترجمہ ۔ شیطان نے کہا (اپنی جگہ ) اے میرے رب ! اس وجہ سے کہ تو نے مجھ کو راہ سے ہٹا دیا میں ملک میں آدمیوں کو بہاریں دکھاؤں گا اور ضرور سب ہی کو بہکا دوں گا۔ تفسیر ۔ شیطان نے کہا میرے رب ! بسبب اس کے کہ تو نے مجھے غوی ٹھہرایا میں بھلے کر دکھاؤں ا قرآن کریم میں ہے شیطان بھلے کر دکھاتا ہے بد عملوں کی بد عملی ۔