حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 17

حقائق الفرقان ۱۷ سُورَةُ الْأَنْفَال تفسیر اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرتا ان کو جب تک تو تھا ان میں ۔ لِيُعَذِّبَهُمْ میں جو (هم) کی ضمیر ہے اس کا مرجع وہی (الَّذِينَ كَفَرُوا) ہے۔ اصل مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ تنذیر قرآن کفار مکہ کو عذاب النبی سے ڈرایا کہ قرآن کی تکذیب و انکار پر ضرورضرور غضب النبی ان پر نازل ہوگا۔ اس پر ان جاہلوں نے از راہ کمال جرات وہ کہا۔ جس کا مضمون ۔۔۔۔۔۔ باری تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ جب تک تو اے محمد ان لوگوں میں ہے ۔ (یعنی سرزمین مکہ اور اس کے اہالی کے درمیان ) تب تک ان پر عذاب نہیں آنے کا۔ اور بے شک یہ وعید الہی ۔ یہ پیشینگوئی ایک برس بعد ہجرت کے جب آپ ملے کو چھوڑ مدینے چلے گئے پوری ہوئی ۔۔۔ ایک اور بات خیال میں آئی جس کا لکھنا شاید دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔ سنو ۔ ہم اسی بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بلحاظ اصل مطلب معترض کے معنی صحیح ہیں گو آیت کا مدعا یہ نہ ہو کہ ” جب تک محمد محمد یوں میں ہے ان پر عذاب نہ آوے گا ۔ بے شک یہ درست اور نہایت درست بات ہے اور واقعی امر ہے کہ جب تک محمد محمدیوں میں ہو ان پر کوئی دکھ ، کوئی وبال ، کوئی عذاب نہیں آ سکتا۔ محمد محمد یوں میں ہو۔ اس کے یہ معنی کہ محمد رسول اللہ کی اصلی اور واقعی تعلیم پر ان کا ٹھیک ٹھیک عمل ہوا اور سر ممو اس کے پاک احکام سے وہ تجاوز وانحراف نہ کریں۔ پس کیا ہی صحیح بات ہے کہ جب تک محمد محمد یوں میں ہو ان پر کوئی عذاب نہ آوے گا ۔ ہم دعوی کرتے ہیں اور بڑی دلیری سے دعوی کرتے ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی عذاب کبھی بھی نہیں آیا۔ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں رہے بایں معنی کہ ان کے کلام مقدس پر اہل اسلام کا ٹھیک ٹھیک عمل رہا۔ تاریخ صاف شہادت دیتی ہے کہ جب اہل اسلام نے اپنے پیارے ہادی کے نصائح سے انحراف کیا۔ جب ہی ان پر ادبار آیا۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول - صفحہ ۱۴۷) ۳۵ - وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۔ ترجمہ۔۔ اور ان کا کیا حق ہے کہ ان کو اللہ عذاب نہ دے حالانکہ وہ روکتے ہیں تعظیم والی مسجد سے اور