حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 226
حقائق الفرقان ۲۲۶ سورة الرعد b ۳۴- أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاء قُلْ سَمُوهُمْ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ - ترجمہ۔ بھلا جو خبر رکھتا ہے ہر ایک جی کی جو اس نے کمایا اور منکروں نے اللہ کے برابر والے ٹھہرائے ہیں ان سے کہہ دے کہ اچھا ان کے نام تو لو کیا تم اللہ کو بتاتے ہو جوز مین میں معلوم نہیں ہے یا جھوٹی بے کار باتیں بناتے ہو۔ بلکہ پسند آ گئی ہے کافروں کو اپنی تدبیر اور وہ راست سے رک گئے ہیں۔ اور جسے اللہ راہ راست سے روکے ، تو اس کا کوئی ہادی نہیں ہو سکتا۔ تفسیر ۔ اَفَمَنْ هُوَ قائم ۔ وہ ذات پاک جو ہر ایک چیز کے پاس نگران موجود ہے اور ہر ایک چیز کو دیکھتی ہے۔ یعنی خدا۔ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاء - باوجود اس کے کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔ پھر بھی لوگوں نے اللہ کی سی امید میں دوسروں کے ساتھ لگا رکھی ہیں ۔ سموهم - کسی کا نام تو لو ۔ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا بے خبر ہے اور ان بتوں کے ذریعے اس کو خبر دی جاوے۔ بظاھر ۔ اس کے معنے میں اختلاف ہے ۔ صحابہ نے اس کے معنے کئے ہیں ۔ باطل ملمع سازی کی باتیں ۔ متاخرین نے معنے کئے ہیں جو بات مدلل نہ ہو۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۴) نمبر ۱ مورخه ۶ رجنوری ۱۹۱۰ صفحه ۱۳۴ ظاهر من القول کے معنے فرمایا۔ قرآن مجید سورہ رعد میں بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ (الرعد: ۳۴) کے دونوں معنے ہیں مضبوط بات۔ باطل بات جس کی تہ میں کوئی حقیقت نہ ہو۔ ( البدر کلام امیر جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۲۲ جون ۱۹۱۱ ء صفحه (۳)