حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 224 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 224

حقائق الفرقان ۲۲۴ سورة الرعد كُلِّمَ بِهِ الْمَوتی ۔ بڑے بڑے کفار کو سنایا گیا۔ یہ سب کچھ کیا گیا تو کفار کہاں ہوں گے ۔ اللہ ہی کی سلطنت اس تمام ملک پر ہو جائے گی۔ افَلَمْ يَا يُعَسِ ۔ کیا نہیں جانتے؟ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۱) فرمایا ۔ وَ لَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا (الرعد: ۳۲) کے معنے بالکل صاف ہیں۔ کو آن قرانا جملہ شرط ہے۔ اور لفعل بهذا القرآن جزا محذوف ہے ۔ اور سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ کے معنے ہیں سیرت القرآن بالجبال ۔ جیسے مفاتحه لتنوء بالعصبة کے معنے ہیں کہ اس کے مفاتح سے ایک جماعت تھک جاتی نہ یہ کہ مفاتح تھک جاتیں ۔ جیسا کہ ظاہری ترکیب سے معنے معلوم ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ایک شعر ہے۔ فَلَمَّا أَجَزْنَا سَاحَةَ الْحَقِّ وَ انْتَحَى بِنَا بَطْنُ خَبْتٍ ذِي حِقَافٍ عَقَنُقَلِ و انتحی بنا کے معنے ہیں ایک طرف کر دیا ہم کو ریت کے ٹیلے نے ۔ حالانکہ ریت کے ٹیلہ نے بر طرف نہیں کیا بلکہ وہ لوگ ریت کے ٹیلہ سے الگ ہو گئے ۔ پس قرآن سے پہاڑ چلائے گئے اور زمین کاٹی گئی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ قرآن پہاڑوں میں چلا یا جاوے۔ یعنی پہاڑی لوگوں اور بڑے بڑے امراء تک پہنچ جاوے اور زمین کے دور دراز علاقوں میں پہنچ جائے اور روحانی مردے کلام کرنے لگیں بلکہ اللہ کی حکومت ہو جاوے ( حصول سلطنت ) - لَوْ فُعِلَ هَذِهِ الْأُمُورُ بِقُرْآنِ لَفَعِلَ بِهَذَا الْقُرْآنِ یعنی مندرجہ بالا امور اگر کسی قرآن سے ہوتے ہیں تو وہی یہی قرآن ہے۔ چنانچہ قرآن تمام روئے زمین پر پھیل گیا۔ روحانی مردے زندہ ہوئے ۔ عرب میں بلکہ دور دور تک اسلامی سلطنت ہو گئی۔ ( البدر کلام امیر جلد ۱۰ نمبر ۳۴ مورخه ۲۲ جون ۱۹۱۱ ء صفحه ۳) ے پھر جب ہم نے قبیلہ کے گھروں سے ملحق کھلی جگہ کو پار کیا اور ریت کے ٹیلوں والے نشیبی مقام کے ایک طرف ہو گئے۔