حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 221
حقائق الفرقان ۲۲۱ سورة الرعد ۲۹ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ - ترجمہ ۔ (یعنی) وہ لوگ جو ایماندار ہیں اور اللہ کی یاد سے ان کے دل آرام پاتے ہیں خبردار ہو جاؤ! اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو آرام و چین ملتا ہے۔ تفسیر آمَنُوا ۔ اس کے ساتھ عَمِلُوا الصلحت کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ کامل ایمان وہی ہے جس کے ثمرات اعمال صالحہ کی صورت میں ظاہر ہوں۔ ذكر الله ۔ اللہ کو یاد کرنا۔ یہ تین موقع پر ہے۔ 1- بأساء ۔ جب بھوک ہو اور افلاس ۔ ۲- ضرآء ۔ جب بیماری ہو۔ بیماریاں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ ظاہر کی ۔ جیسے خارش، جذام ، جنون ۔ باطنی ۔ جیسے نامرد - سرعت انزال - ۳ ۔ حِيْنَ الْبَأْس۔ جب مقدمہ ہو ۔ پھر اس کے بالمقابل (۱) ۔ (غناء) آسائش ۔ فارغ البالی (صحت) (۲) - تندرستی - جوانی (۳) ۔ حِينَ الآمن - جب کوئی مصیبت نہ ہو۔ یہ چھ حالتیں انسان کی ہیں ۔ ان حالتوں میں اللہ یادر ہے۔ یعنی تنگی کے وقت معصیت نہ کر بیٹھے نافرمانی سے اپنے تئیں بچاوے۔ اور فراخی کے وقت شکر کرے۔ صوفیوں میں ایک بحث ہے کہ غنی شاکر اچھا یا فقیر صابر ۔ حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے بھی یہ بحث پیش ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک فقیر شاکر اچھا ہے۔ اس سے اوپر ایک درجہ ہے۔ اس میں صحت ، غریبی، غنا کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔ بلکہ اس درجے والا ہر حالت میں اللہ کا شکر اور اس کی رضا پر شرح صدر سے راضی رہتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۳)