حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 171

حقائق الفرقان ۱۷۱ سُورَةٌ هُودٍ بادشاہ بننے کی آرزو ہے تو ہم تجھ کو بادشاہ بنانے کے واسطے تیار ہیں ۔ اگر تجھے دولت مند بننے کی خواہش ہے تو دولت جمع کر دیتے ہیں ۔ اگر حسین عورت چاہتا ہے تو تامل و مذائقہ نہیں ۔ یہ کیا چیزیں تھیں ۔ مگر دنیا پرست کی نظر ان سے پرے نہیں جاسکتی تھی ۔ اس لئے اسی کو پیش کیا۔ آپؐ نے اس کا کیا جواب دیا ؟ یہی کہ اگر سورج اور چاند کو میرے دائیں بائیں رکھ دو تو بھی میں اس اشاعت اور تبلیغ سے رک نہیں سکتا۔ اللہ ! اللہ ! کس قدر اخلاص ہے اللہ تعالیٰ پر کتنا بڑا ایمان ہے۔ قوم کی مخالفت ان دکھوں اور تکلیفوں کے سمندر میں اپنے آپ کو ڈال دینے کے واسطے روح میں کس قدر جوش اور گرمی ہے جو اس انکار سے آنے والی تھیں ۔ ان تمام مفاد اور منافع پر تھوک دینے کے لئے کتنی بڑی جرات ہے جو وہ ایک دنیا دار کی حیثیت سے پیش کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ کو راضی رکھ کر ۔ اس کو مان کر اس کے احکام کی عزت و عظمت کو مد نظر رکھ کر اس قربانی کا بدلہ آپ نے کیا پایا؟ وہ پایا جو دنیا میں کسی ہادی کو نہیں ملا۔ اور نہ ملے گا ۔ اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کی صدا کس کو آئی ؟ اور کس نے ہر چیز میں آپ کو وہ کوثر عطا کی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی ۔ سوچو اور غور کرو !! میں نے مختلف مذاہب کی کتابوں ، ان کے ہادیوں اور یا نبیوں کے حالات کو پڑھا ہے۔ اس لئے دعوئی سے کہتا ہوں کہ کوئی قوم اپنے ہادی کے لئے ہر وقت دعا ئیں نہیں مانگتی ہے۔ مگر مسلمان ہیں کہ دنیا کے ہر حصہ میں ہر وقت ہر آن اللهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّد وَ بَارِكْ وَسَلَّمْ کی دعا آپؐ کے لئے کر رہے ہیں ۔ جس سے آپؐ کے اور مراتب ہر آن بڑھ رہے ہیں ۔ یہ خیالی اور خوش کن بات نہیں ۔ واقعی اسی طرح پر ہے۔ دنیا کے ہر آباد حصہ میں مسلمان آباد ہیں اور ہر وقت ان کی کسی نہ کسی نماز کا وقت ضرور ہوتا ہے جس میں لازمی طور پر اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ پڑھا جاتا ہے۔ مقرر نمازوں کے علاوہ نوافل پڑھنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ اور درود شریف بطور و ظائف کے پڑھنے والے بھی کثرت سے۔ اس طرح پر آپ کے مراتب، مندارج کا اندازہ اور خیال بھی ناممکن ہے۔ یہ عزت اور یہ فخر کسی اور بادی کو دنیا میں حاصل نہیں ہوا ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۴ صفحه (۴)