حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 120
حقائق الفرقان ال۔ سُورَة يُونُسَ دیر کے بعد کیوں حرام کیا۔ مگر اس میں نسخ کسی حکم موجود فی القرآن کا ہوا؟ نزول ارشادات آخر بتدریج ہوا کرتا ہے۔ کیا وید کے تمام احکام بلاکسی ترتیب کے یکدم رشیوں نے سمجھے تھے؟ نہیں اور ہرگز نہیں ! آپ ! آپ تو کہتے ہیں کہ محقق کتنے احکام نکال سکتا ہے کہ پہلے جائز کئے پھر ممنوع ۔ ہاں مجھے تو کوئی آیت ایسی معلوم نہیں جس سے یہ پایا جائے کہ فلاں حکم جائز یا ضرور ہے۔ پھر بعینہ اسی حکم کو کہا گیا ہو کہ یہ حکم ممنوع ہے۔ نہیں نہیں !! اور ہر گز نہیں ! ہم کو ہمارے قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ فلاں حکم جو فلاں آیت میں ہے اب قطعا منسوخ ہو گیا۔ ہمارے ہادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ فلاں حکم قرآنی اب منسوخ ہے ۔ آپ کے پاک جانشینوں ابوبکر وعمر ۔۔ نے بھی نہیں فرمایا کہ فلاں حکم قرآنی اب منسوخ ہے۔ اس پر بالکل عمل درست نہیں ! رض نسخ کے معنے اگر ابطال حکم کے ہیں کہ قرآن میں ایک حکم موجود ہو اور وہ منسوخ کیا گیا ہو تو ایسا حکم بھی مجھے ہرگز معلوم نہیں ! اگر کسی کو اس کے خلاف دعوئی ہو تو ثبوت دے! قرآن کریم حسب ارشاد الہی اکمال کے لئے آیا ہے۔ جیسا اس نے فرمایا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة: ۴) پس وہ حقائق ثابتہ کے ابطال کے لئے نہیں آیا بلکہ اثبات حقائق کی خاتم الکتب ہے !! ۶۶ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۳۱۲، ۳۱۳) ٦٦ - وَلَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - ترجمہ ۔ ان کے کہنے کا تو رنج نہ کر ۔ ان کو بتلا دے کہ سب عزتیں اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور وہ بڑا سننے والا ہے کافروں کی بدگوئی بڑا جاننے والا ہے تیرے غلبہ اور عزت کا حال۔ - ۲ تفسير قولهم - مخالفین عجیب عجیب طرح سے حقارت کے کلمات بولتے ہیں۔ مگر آخر سب جھوٹے نکلتے ہیں۔ نوٹ کے ساتھیوں کو کہا گیا ھم آراذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْي (هود:۲۸) فرعون نے بھی کہا کہ ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں یہ ہم پر برتری چاہتا ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں ۔ اولیاء اللہ اپنی عزت نہیں چاہتے ۔ وہ تو خدا کا جلال اور خدا کی عزت کے طالب رہتے ہیں ان ے آج میں نے کامل کر دیا تمہارے لئے دین کے مگر ہم میں کے ذلیل (سطحی رائے والے ) اور یہ ہماری رائے کھلی ہے۔