حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 118

حقائق الفرقان ۱۱۸ سُورَة يُونُسَ نے کہا۔ کیا تم میرا بھی رعب ایسا مانتے ہو؟ غرض ان خلفاء راشدین کے وقت کے جلال اور شوکت پر نظر کرو۔ پھر دیکھو کہ ایسے بارعب آدمیوں کو بھی مارنے والے نے سر مجلس مار دیا۔ حضرت عثمان کا پانی تک بند کر دیا۔ قتل بھی کیا۔ ان کی چلتی پرزہ قوم کی کچھ پیش نہ گئی ۔ حضرت علی کی شجاعت نے بھی کچھ کام نہ دیا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں تھے کہ چاروں طرفوں سے دشمنوں کا نرغہ تھا۔ پھر بھی کوئی آپ کے قتل پر کامیاب نہ ہو سکا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے خیمہ سے سر نکال کر باہر دیکھا کہ کوئی پہرہ دے رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ تم چلے جاؤ پہرہ کی ضرورت نہیں اس حفاظت کا ذكر وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنِ آیت میں فرماتا ہے۔ ۶۴ ،۶۳ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر۷ مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۱۲۲) ، ۶۴ - اَلَّا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ امَنُوا وَ كَانُوا يَتَّقُونَ - ترجمه خبر دار ہو جا کہ اولیاء اللہ پر خوف اور حزن نہیں ہوتا۔ مومن جو متقی ہوتے ہیں۔ تفسیر۔ اِنَّ اَوْلِيَاء الله ۔ اب اولیاء اللہ کے نشان بتاتا ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ ان کو خوف نہیں ہوتا کہ ہم ناکام رہیں گے۔ نہ حزن ہوتا ہے کہ ہمیں یہ نقصان پہنچے گا۔ حضرت عمر و علی کے قتل سے بھی اسلام کا کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے مقبوضات ابھی تک تیرہ سو برس سے مسلمانوں کے قبضے میں چلے آتے ہیں۔ کربلا کا واقعہ جو پیش کرتا ہے۔ اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں کے عارضی فاتحین کا نام و نشان تک نہیں ۔ اور وہ جو وہاں شہید کئے گئے ۔ ایک دنیا میں ان کا ڈنکا بج رہا ہے۔ سید تو ہر گاؤں میں ملیں گے۔ مگر کوئی نہیں ملے گا جو اپنے تئیں یزید کی اولاد سے کہے بلکہ نام بھی یزید ہو۔ خوارج تک کا یہ نام نہیں ہوتا۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ۔ یہ ولی اللہ کی تعریف ہے۔ ا ہے۔ ایمان لائے اور اور پھر تقویٰ : ری میں ترقی کرتا رہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۱۲۲)