حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 86
حقائق الفرقان ۸۶ سُورَةُ آل عِمْرَان ۹۸- فِيهِ ايْت بَيِّنَتْ مَّقَامُ ابْرَاهِيمَ ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنَّا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ - ترجمہ۔ اُس میں بہت سی کھلی کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کا مقام ہے اور فتنہ دجال سے امن میں آ گیا جو وہاں داخل ہوا۔ اور اللہ کا فرض ہے لوگوں پر کعبہ کا حج کرنا جس سے بن پڑے وہاں تک پہنچنا۔ اور جس نے حق چھپایا تو بے شک اللہ بے پرواہ ہے سب جہان سے'۔ تفسیر مَقَامُ ابْراهِيمَ - پھر اس مکہ کی اول تو یہ خصوصیت ہے کہ اس میں ابراہیم کی عبادت گاہ ہے یہودی ، عیسائی اپنے متبوع کی کوئی جگہ پیش نہیں کر سکتے جو ان کے قبضہ میں ہو۔ دوسری آیت وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنَّا اور دوسری جگہ فرمایا وَ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حولهم (العنکبوت: ۶۸) کے سارے جہاں میں افراتفری پڑی ہے پر مکہ میں نہیں۔ تیسری آیت و لِلهِ عَلَى النَّاسِ حِجُ الْبَيْتِ ۔ جو یہ نہیں سمجھتا وہ یہ پیشگوئی سن لے کہ حج بیت اللہ کا لوگوں میں رہے گا۔ وَ مَنْ كَفَرَ ۔ اور جو باوجود ان دلائل کے گھر کرے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۱۸ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۶ ) وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا (آل عمران : ۹۸) اور جو داخل ہوا مکہ میں ہوا امن پانے والا ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۳۴) مقام ابراهيم - یہود و نصاری کے لئے عزت کا مقام ہے۔ وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ امنا ۔ بہت بڑی پیشگوئی۔ دنیا میں سلطنتیں بدل جائیں مگر مکہ کی حرمت اور حج یوم القیامت تک قائم ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۷) مکہ معظمہ تیسر ا مظہر اسلام کا اس دنیا میں ہے اور اس مکہ معظمہ کی نسبت یہ ارشاد ہیں ۔ اے یعنی منکر ذلیل و محتاج ہو جائیں گے۔ (ناشر)