حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 58
حقائق الفرقان ۵۸ سُورَةُ آل عِمْرَان ارودو کے بعد کُن فیکون سے قیامت کے دن زندہ ہو گا ۔ اسی طرح عیسی بھی مر چکا اور قیامت کو بامت کو زندہ ہو گا۔ جس گروہ کے عقائد یہ ہیں وہی حق پر ہیں ۔ اگر تم اس کی الوہیت کے قائل ہو تو کوئی دلیل دو ۔ آدم کا مثیل ہونے سے اس کی بشریت ظاہر ہے۔ دنیا نے اس کو دیکھا کہ وہ انسانوں کی طرح کھاتا پیتا، ہکتا موتتا رہا پھر وفات بھی یا گیا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۱، ۶۲) إِنَّ مَثَلَ عِيسى - باقی رہا مسلمانوں اور عیسائیوں کا فیصلہ سو وہ اس دلیل سے ہار جاتے ہیں۔ ابنِ آدم تو وہ مانتے ہیں ۔ الوہیت کا ثبوت ان کے ذھے ۔ كُن فَيَكُون - خلق تو ہو چکا۔ پس یہ گنج موت کے بعد پر ہے۔ اس سے وفات مسیح کا ثبوت ملتا ہے۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۴۶، ۴۴۷) اور مومن اور جنہوں نے اچھے اعمال کئے پس ان کو پورا اجر ملے گا اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ پڑھتے ہیں تجھ پر تیری نبوت کے نشانوں سے اور تذکرہ ہے حکمت والا ۔ اب اللہ وہ فیصلہ دیتا ہے جس کا اتباع کے باہم اختلاف میں وعدہ فرمایا تھا۔ عیسی آدمی کی طرح ہے۔ آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو دوسرے تیسرے تو لید نئی زندگی نبوت کے واسطے منتخب فرمایا اور وہ ایسے ہی ہو گئے ۔ ( ابطال الوہیت مسیح ۔ تصانیف حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۶۱،۶۰) کن کے معنے ہو جا۔ فیکون کے معنے ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کسی چیز کے وجود کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چیز ظہور میں آ جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کن کا تعلق بعد الموت ہوا کرتا ہے۔ تمام قرآن کریم میں مرنے کے بعد پھر جی اُٹھنے پر کُن فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ (الانعام : ۷۴) اور عظیم الشان امر یہ ہے کہ وہ اللہ جس نے پیدا کیا آسمانوں، بلندیوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ اور جب کہے گا کن تو پھر ہونے والی چیزیں ہو پڑیں گی۔