حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 53

حقائق الفرقان ۵۳ سُورَةُ آل عِمْرَان کے مصداق ہیں ۔ پس کبھی ضمیر کا مرجع دُور بھی ہوتا ہے۔ مکر بمعنی تدبیر ہے ۔ عربی سے نا واقف ع هرچه گیرد علتی علت شود کے مصداق اپنی زبان پر قیاس کر کے اس کو اپنے معنوں میں لیتے اور مَكَرَ مَكَرَا ۔ مَكَرُوا کی گردان پڑھتے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۱ ) مکر کے معنی تدابیر، دقیقہ اور ارادات مستحکمہ کے ہیں ۔ پس مَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ (آل عمران : ۵۵) کے معنے ہوئے کہ مسیح علیہ السلام کے مخالفوں نے تدابیر دقیقہ اور ارادات محکمہ کئے کہ مسیح علیہ السلام کو قتل کریں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدابیر دقیقہ اور محکمہ سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ کی تدابیر بڑی بھلائی پر مبنی ہیں ۔ خیر کا صیغہ اسم تفضیل یا افعل التفضیل کا ہے جس کے معنے بڑے کے لئے گئے ۔ ان معنے کا بیان قرآن کے اس مقام پر صاف ہوا ہے جہاں ارشاد ہوا وَ إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَ يَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ (الانفال : (۳) اور تقـ (۳) اور تفصیل فرمادی کہ مگر دو قسم کا ہوتا ہے ۔ ایک سیئ اور دوسرا خیر جیسے فرما یا ولا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّةُ إِلَّا بِأَهْلِهِ (فاطر : ۴۴) الحکم جلد ۲ نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۷ مارچ و ۶ را پریل ۱۸۹۸ صفحه ۸ ) ے جو بھی اس پر مشکل یا بیماری آتی ہے وہ اس کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ۲۔ انہوں نے عیسی کے مقابلہ میں تدبیریں کیں اور اللہ نے (اُس کی نجات کے لئے ) اور اللہ کی تدبیریں خیر و برکت سے بھری ہوئی ہیں۔ سے اور جب تدبیر کی کافروں نے تیرے لئے کہ تجھے قید کر دیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں اور وہ ایک تدبیر کر رہے تھے تیرے نقصان کی ) اور اللہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ کی تدبیریں خیر و برکت سے بھری ہوئی ہیں۔ (ناشر) ۴ اور بری تدبیر کا وبال کسی پر نہیں پڑتا مگر اسی تدبیر کرنے والے پر (یا جو اس کے لائق ہے ) ( ناشر )