حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 51

حقائق الفرقان ۵۱ سُورَةُ آل عِمْرَان کے احیاء سے مراد پیغمبروں والا احیاء ہی لیا جائے گا ۔ اوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي به في النَّاسِ (الانعام: ۱۲۳) آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام الہی میں مردہ سے کیا مراد ہوتی ہے اور اس کی زندگی سے کیا مقصود ہے۔ یعنی جو شخص دین سے غافل ہو جس میں روحانی زندگی نہ ہوا سے کلام الہی کی اصطلاح میں مردہ کہیں گے۔ جب وہ دین سے باخبر ہو اور اس میں روحانیت آجائے تو وہ زندہ کہلائے گا۔ اسی طرح حضرت عیسی روحانی مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ وَ أُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ ۔ اس کے معنے کرنے کے لئے بھی یہ دیکھ لینا چاہیے کہ نبی لوگوں کے کھانے پینے اور رکھنے کی چیزوں کے متعلق متنبہ کرتے ہیں ۔ آیا وہ نجومیوں کی طرح یہ بتایا کرتے ہیں کہ تمہارے گھر میں یہ ہے تم یہ کھا کر آئے ہو یا وہ کھانے پینے کی چیزوں اور مال کے متعلق جائز و ناجائز کا حکم دیا کرتے ہیں ۔ جب آخری بات ثابت ہے جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو فرما یا مردار نہ کھاؤ ، دم مسفوح نہ کھاؤ، خنزیر نہ کھاؤ مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله نہ کھاؤ۔ ایسا ہی حضرت عیسی نے حکم الہی کو واضح کیا کہ یہ چیزیں کھانے کی ہیں یہ نہ کھانے کی۔ اتنا مال جمع کرنے کی اجازت ہے اتنا اس میں سے خدا کے نام دینا چاہیے۔ وَلِأُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ کے معنی بھی اسی توضیح سے کھل گئے ۔ یہودی اپنی بدعملیوں کی وجہ سے بعض چیزوں سے بعض نعمتوں سے محروم ہو گئے تھے۔ فرمایا تم میری فرمانبرداری کرو وہ نعمتیں پھر اللہ تمہیں میسر کر دے گا۔ ( تشحید الا ذہان جلدے نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۴۱۶ تا ۴۲۱) لأُحِلَّ لَكُمْ ۔ اس آیت کے لئے دیر تک میں فکر میں رہا۔ قرآن شریف میں آیا ہے لا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتْكُمُ الْكَذِبَ هُذَا حَلْلٌ وَهُذَا حَرَام (النحل : ۱۱۷) پس مسیح کیونکر کسی چیز کوحرام یا حلال کہہ سکتے تھے یہ تو خدا کا کام ہے۔ بہت سوچ کے بعد دو ا مر حل ہوئے ایک تو یہ کہ ان ابراهیم (حَرَّمَ مَكَّةَ ) حرمت مکہ کے معنے سب یہی کرتے ہیں بَينَ حُرُ مَتھا ۔ ابراہیم نے مکہ کی حرمت کو بیان لے بھلا ایک مردہ تھا پھر ہم نے اس میں جان ڈالی اور اس کو روشنی دی کہ اسے لئے پھرتا ہے لوگوں میں ۔ اور اپنی زبان سے جھوٹ بنا کر نہ کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے۔ (ناشر)