حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 39
حقائق الفرقان ۳۹ سُورَةُ آل عِمْرَان ۴۵- ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ - ترجمہ ۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم بھیجتے ہیں تیری طرف اور تو موجود تو تھا ہی نہیں ان کے پاس جب انہوں نے قلمیں ڈالیں (دریائے پُر دن پر ) کہ کون مریم کی پرورش کا ذمہ دار ہو اور جب وہ جھگڑ رہے تھے اس وقت بھی تو وہاں موجود نہ تھا۔ تفسیر ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ ۔ بس یہی وہ بات ہے جس کے لئے میں نے ابتداء میں تقریر کی کہ اس قصہ میں مکہ کی نسبت پیشگوئی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۹ ) یہ کہانی غیب نہیں ہو سکتی ۔ ہم مسلمانوں کو ایرانیوں مجوسیوں کے قصے یاد ہیں جس طرح زکریا کو نا اُمیدی میں ملا اسی طرح اے صحابہ کرام تم بھی ایسی مشکلات میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔ یہ پیشگوئی تھی جو اس قصے میں فرمائی ۔ دیکھو یسعیاہ ۵۴ ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۶) وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ - آیت اِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ سے الگ ہے اور اس آیت کا مضمون اس آیت سے ملتا ہے جہاں مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَا الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ (ص : ۷۰) جب کوئی انتخاب خداوندی ہوتا ہے تو ملاء اعلیٰ میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے اور کچھ رائے زنی ہوتی ہے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۵۹ ) لے مجھ کو کچھ خبر نہ تھی ( کہ میں آسمان میں منتخب ہورہا ہوں ) جب اعلیٰ درجہ کے فرشتے آپس میں جھگڑتے تھے۔