حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 443 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 443

حقائق الفرقان ۴۴۳ سُورَةُ الْأَعْرَافِ یہ نشان ہے۔ کہ اگر اس کی خلاف ورزی کرو گے اور اس اونٹنی کو جواب خصوصیت رکھنے والی اونٹنی ہے۔ ستاؤ گے تو ہلاک ہو گے۔ عرب کے ملکوں میں دشمنوں پر رعب ڈالنے اور اپنی شوکت کے اظہار کے لئے نہ صرف اونٹ چھوڑے جاتے تھے بلکہ گھوڑے اور دنبے بھی اور قوم کلیب کے جنگوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کتوں کے بچوں کو بھی اسی طرح آزاد کرتے تھے۔ ناقہ صالح کی مثال رسومات عرب میں میدانی نے امثال میں لکھا ہے کہ حیرہ کے بادشاہ کسرای نے اپنی قوت ، سلطنت اور بطش کے بوں میں بڑا رعب جمایا تھا اس کو مضرط الحجر کہتے تھے۔ اس نے شدید قحط کے زمانہ یا دنبہ کو خوب پالا اور پوسا۔ پھر اس کے گلے میں چھری اور چقماق ڈال دیا اور اُسے جنگل میں چھوڑ دیا اور کہا۔ کون ہے جو اسے ذبح کر سکتا ہے عربوں میں کوئی بھی اس سے تعرض نہیں کر سکتا تھا آخر بنویشکر قوم تک پہنچا اور علیاء بن ارقم کی نظر پڑا۔ تب وہ بول اٹھا۔ میں اس دُنبہ کو کھالوں گا۔ تب قوم کے لوگوں نے اسے روکا اور ملامت کی ۔ لیکن علیاء اپنے ارادہ پر قائم رہا۔ تب انہوں نے اس بات کو اپنے سردار تک پہنچایا۔ اس نے یہ فقرہ کہا جواب کہاوت کے طور مشہور ہے إِنَّكَ لَا تَعْدِمُ الضَّأْنَ وَلَكِنْ تَعْدِمُ النَّفْعَ۔ لوگوں نے ملامت تو بہت کی مگر علیاء نہ ٹلا۔ اور دنبہ کو ذبح کر کے کھا گیا اور بادشاہ کے پاس چلا گیا اور کہا کہ میں نے ایک بدی کی ہے۔ اور بہت بڑی بدی کی ہے لیکن آپ کا عفواس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور اپنا سارا ماجرا سنایا۔ تب بادشاہ نے کہا۔ اب میں تجھے قتل کر دوں گا تب علیاء نے وہ مشہور قصیدہ پڑھا جس کا ایک شعر ہم نقل کرتے ہیں ه ☑ وَ إِنَّ يَدَ الْجَبَّارِ لَيْسَتْ بِصَعْقَةٍ وَلكِنْ سَمَاء تُمْطِرُ الْوَيْلَ وَ الدِّيمُ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۳ - ۲۱۲) لے تو دنبہ کو ختم نہیں کرے گا بلکہ اپنے آپ کو نفع سے محروم کر لے گا ۔ ۲ے یقیناً زور آور کا ہاتھ تباہ کرنے والی بجلی نہیں ہے۔ بلکہ ایسا بادل ہے جو موسلا دھار بارش برساتا ہے اور مسلسل برسنے والی جھڑی بن جاتا ہے۔