حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 32
حقائق الفرقان ۳۲ سُورَةُ آل عِمْرَان فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَ أَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَ كَفَلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَمَرْيَمُ انى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ ۔ ترجمہ ۔ تو اس لڑکی کو اس کے رب نے قبول فرمایا اچھی طرح سے پسند کر کے اور اس کو بڑھایا خوب اچھا اور اس کو سپرد کر دیا زکریا کے، جب کبھی آتا اُس کے پاس زکر یا حجرے میں موجود پاتا اُس کے پاس کچھ کھانا، پوچھا اے مریم ! یہ تجھے کہاں سے ملتا ہے بولی یہ اللہ کے یہاں سے ( ملتا ہے ) بے شک اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حساب ۔ تفسیر ۔ وَكَفَلَهَا زَکریا ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ تا بتائے کہ یہ تمام گھرانہ پاکوں کا ہے جس کی عورتیں اور مرد انعامات الہی سے مشرف تھے۔ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۔ بہت معمولی بات ہے مگر مفسرین کی اعجوبہ پسند طبیعت نے بے موسمی میوے کھائے ۔ یہ خواہ مخواہ کی زیادہ علی القرآن ہے۔ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ - یہ واقعہ صرف اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان کیا کہ تا ظاہر ہو کہ اس خاندان کے بچے بھی کیسے خدا پرست تھے کہ وہ معمولی چیزیں بھی جب پاتے تو توحید میں ایسے مستغرق تھے کہ یہی کہتے کہ خدا نے دیا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۷ ارجون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۵۷) ٣٩ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ - ترجمہ ۔ وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے اے میرے رب ! مجھے عنایت فرما اپنے پاس سے ایک نیک اولا د بے شک تو بڑا ہی سننے والا دعا کا ہے ۔ تفسير - هُنَالِكَ دَعَا زَکریا۔ مفسرین نے جھک مارا ہے جو کہا ہے کہ ذکر یان امید تھے۔ نا امید خدا کی