حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 368 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 368

حقائق الفرقان ۳۶۸ سُورَةُ الْأَنْعَامِ تفسیر۔ نبی کریم جس ملک میں جس وقت رہتے تھے وہ ملک ۔ وہ وقت عظیم الشان بت پرستی کا تھا مکہ کے اندر ۳۶۰ بت پوجے جاتے تھے۔ عیسائی جو تھے وہ حضرت مریم کے پجاری تھے۔ ایک کتاب میں میں نے پڑھا ہے کہ مریم کے بت کو رو پہلی گوٹے کناری کے کپڑے بھی پہنائے جاتے تھے۔ بت پرست کی عقل عجیب طور پر ماری جاتی ہے۔ ایک عظیم الشان بت پرست کا ذکر ہے کہ وہ اکتوبر کے آخری دنوں میں تو شہ خانے میں تنہا بیٹھا بڑے اہتمام کے ساتھ درزی سے کچھ کپڑے پشمینے کے سلا رہا تھا۔ میں ان کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کیونکہ وہ کپڑے کسی انسانی قد کے معلوم نہیں ہوتے تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سیتاجی کے ہیں۔ میں نے درزی سے کہا۔ اس میں روئی بھی ڈال دینا۔ سردی کا موسم ہے۔ (مولانا کا مطلب اس کی فطرت کو بیدار کرنے کا تھا وہ بول اٹھے گا کہ روئی کی کیا ضرورت ہے۔ بت کو سر دی تھوڑی ہی لگتی ہے؟ پھر اعتراض ہوسکتا کہ پشمینے کی پھر لباس کی کیا ضرورت ہے ) اس پر وہ خاموش رہ گیا۔ سوا اس کے کچھ نہ کہا۔ آپ مذہبی معاملہ میں بھی ملتے نہیں ۔ بت پرستوں کی عجیب عجیب حکایتیں ہیں ۔ کہیں گرمی سے بے ہوش ہو کر پتھر پر گر پڑے۔ خون نکلنے سے ہوش آیا۔ تو اسی پتھر کو پوجنا شروع کر دیا کہ یہی ہوش میں لایا۔ میرے تین لڑکے مر چکے تھے۔ ایک ہندو دوست نے مجھے کہا کہ میرے باپ کے اولاد نہیں ہوتی تھی ۔ دو پستے میری ماں کو کھلائے گئے۔ تب میں اور میرا بھائی ہوئے۔ یہ تجربہ شدہ بات ہے۔ پس آپ بھی آزمائیے۔ جیسے دواؤں کو آزماتے ہیں۔ اگر آپ کو شریعت مانع ہو تو آپ کی طرف سے میں تر کٹا دیوی کی منت کروں گا۔ میں نے کہا آپ تکلیف نہ کریں۔ دیوی نے آپ کے باپ کو آپ جیسا دائم المریض۔ آپ کے بھائی جیسا پاگل دیا۔ مجھے ایسی اولاد نہیں چاہیے۔ غرض بت پرستی میں عقل بالکل ماری جاتی ہے۔ بت پرست یہ نہیں سمجھتا کہ دنیا کی سب چیزیں میری خادم بنائی گئی ہیں اور پھر اپنے خادموں کو مخدوم بلکہ معبود بنا تا ہوں ۔ مَفَاتِحُ - جمع ہے مفتح کی ۔ جس کے معنے خزانے کے ہیں۔ قارون کے بیان میں بھی مفاتیحه آیا ہوا ہے جس سے مراد خزانے ہیں ۔ مفاتیح نہیں کہ چابیاں اس کے معنے ہوں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۹۶)