حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 27

حقائق الفرقان ۲۷ سُورَةُ آل عِمْرَان رضا کی راہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے۔ اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان آدم ، نوح، ابراہیم ، موسیٰ علیسی، داؤد محمد ، احمد ہے تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپ ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپ ہی کی چادر کے نیچے ہو کر ہے۔ کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کھلی ہے تو وہ آپ میں ہوکر ۔ ورنہ یقیناً یقینا سب راہیں بند ہیں۔ کوئی شخص براہ راست اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کر سکتا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۴) قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) یعنی اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ تو میری اطاعت کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔ پس چونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے کی ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی کلید اور وہ ہے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ صحابہ کرام کو جو یہ حکم دیا گیا تھا و جو یہ حکم دیا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو اور محبوب الہی بننے کا جو یہ گر ان کو بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علیحدہ علیحدہ ترقی نہیں کر سکتے اور نہ ترقی کرنے کا یہ اصول ہے کہ انفرادی طور پر ترقی کریں بلکہ انبیاء ورسل کے ماتحت ترقی کرنے کا اصل الاصول یہی ہے کہ سب کے سب اکٹھے ہو کر اس کی اطاعت اور نقش قدم پر چلنے میں ایسے فنا ہوں کہ اسی کا عکس اور نمونہ بنا چاہیں اور اس کے سایہ میں اس طرح پر جمع ہو جائیں جیسے مرغی کے پروں کے نیچے بچے جمع ہو جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱۵ ) جناب الہی میں محبوب بننے کے لئے اتباع رسول کی سخت ضرورت ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله - ساری دنیا کو قربان کر دو۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع پر۔ دیکھو۔ حضرت ابراہیم نے کیسی قربانی کی اور آخر اسی قربانی کے وسیلے سے وہ اس وجاہت پر پہنچا کہ