حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 351
حقائق الفرقان ۳۵۱ سُورَةُ الْأَنْعَامِ لے جو حالت انبیاء علیہم السلام کے مکذبوں کی ہوئی اس سے بڑھ کر ہمارے حضور علیہ السلام کے نافہم مکذبوں کی ہوئی ۔ جہاں سے مکذبوں نے آپؐ کو نکالا۔ وہاں سے خود ہی ابدالا باد کے واسطے نکل گئے ۔ سچ ہے وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲، ۲۳) ۱۳ ، ۱۴- قُلْ لِمَنْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلَّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - ترجمہ ۔ یہ تو پوچھو کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تم ہی کہو سب اللہ ہی کا ہے۔ اس نے ٹھہرالی ہے اپنی ذات پر رحمت وہ ضرور جمع کرے گا تم کو قیامت کے دن جس کے ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں جو لوگ اپنا نقصان آپ کر رہے ہیں وہ تو کبھی ماننے والے نہیں ۔ اور اللہ ہی کا ہے جو کوئی رات دن میں رہتا ہے اور وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔ تفسیر ۔ فرماتا ہے کہ لَيَجْمَعَنَكُمُ إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ۔ اس قیامت کے دن کا ہی فکر کرو۔ جہاں اولین آخرین جمع ہوں گے۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا۔ عذاب غیر مقطوع ہے یا نہیں؟ میں نے کہا میرے نزدیک غیر مقطوع نہیں ۔ اس نے کہا پھر تو ہم بھی آپ سے آ ملیں گے۔ میں اس وقت خاموش رہا۔ تھوڑی دیر بعد میں اور وہ بازار میں گئے۔ میں نے چوک میں پوچھا۔ یہاں آپ کا کوئی واقف ہے؟ کہا نہیں ۔ میں نے کہا کہ میرا بھی کوئی واقف نہیں۔ پس یہ لو دو روپے اور مجھے ایک نجوت سر پر مار لینے دو۔ بول اٹھا۔ میں سمجھ گیا۔ میں نے اسے کہا۔ او نادان ! چند واقفوں میں تو اپنی ہتک گوارہ نہیں کر سکتا تو وہاں جہاں سب جمع ہوں گے۔ اپنی ہتک کیونکر گوارہ کر سکے گا ؟ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - تمہارے اقوال و اعمال کا سننے اور جاننے والا ہے کیا تم انکا کر سکتے ہو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مؤرخه ۲۶ را گست ۱۹۰۹ صفحه ۹۴)