حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 337

حقائق الفرقان ۳۳۷ سُورَةُ الْمَائِدَة نہیں بیچتے مال کے لئے اگر چہ وہ شخص ہمارا زیادہ تر قرابت دار ہی ہو اور ہم چھپاتے نہیں حق گواہی ، ایسا کریں تو ہم بے شک گنہگار ہیں۔ تفسیر ۔ شَهَادَةُ بَيْنِكُمُ ۔ اللہ نے پہلے اسلام، دین، ایمان ، آخرت کی تاکید کی ہے اور مفصل بیان فرمایا ہے کہ جو حکم جناب النبی سے آویں ان کی پابندیاں کرو۔ اور رسومات قبیحہ کو چھوڑ دو۔ دین کے بعد دنیا کی اصلاح کے متعلق فرماتا ہے کہ اے ایماندارو! جب حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تم میں سے کسی کی موت کے علامات ظاہر ہوں ۔ حَضَرَ کے یہی معنے ہیں تو ہیں تو تمہیں حاضر ہونا چاہیے۔ شہادت ۔ ہیے۔ شہادت کے معنے حضور کے ہیں۔ اضافت ظرف کی طرف ہے جیسے ھذا فَرَاقُ بَيْنِي وَ بَيْنِكَ (الكهف: ۷۹) اور بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ (السبا : ۳۴) اور شہادت بمعنے حضور جیسے فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (البقرة: ١٨٦) اور وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَابقة " (النور: ۳) - حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنن - حاضر ہونا کس کا؟ دوکا ۔ وصیت کے وقت ۔ ه کبھی کبھی اسم کو رکھ لیتے اور فعل کو حذف کر دیتے ہیں جیسے کفی بِاللهِ شَهِيدًا (النساء:۸۰) میں اكتف کفی بِاللهِ - اَكْتِفُ بِاللهِ شَهِيدًا کیونکہ گھی کا صلہ ب نہیں آتا اسی طرح یہاں يَشْهَد محذوف ہے۔ وہ دو کیسے ہیں۔ ذَوَا عَدْلِ - صاحبانِ رشد و عقل ۔ منكُم ۔ تم میں سے دین کا تعلق رکھنے والے۔ آخران ۔ مسلمان نہ ہوں ۔ قاضی شریح نے لکھا ہے کہ سفر اور وصیت کے معاملہ میں غیر مسلم گواہ بھی لے لئے جاتے ہیں۔ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ ۔ اِن کے بعد اسم نہیں آتا پس یہاں فعل محذوف ہے۔ یعنی إِنْ ضَرَبْتُمْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ - لے یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے ۔ ۲ بلکہ تمہارے رات دن کے منصوبوں نے ( ہمیں روکا ) ۔ سے تو ( مسلمانو) تم میں سے جو شخص مقیم ہو یا اس مہینے کو پاوے (اس میں حاضر ہو ) تو چاہئے کہ اس کے روزے رکھے۔ ے اور چاہئے کہ آ موجود ہو ان کی سزا کے وقت ایک جماعت ہے اور اس بات پر اللہ ہی کی گواہی بس ہے۔