حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 318

حقائق الفرقان ۳۱۸ سُورَةُ الْمَائِدَة غالب آئے گا دیکھو جو بتوں کے حامی تھے۔ جو اپنی اپنی خودساختہ روایات کے پابند تھے۔ ان کو اپنے بتوں کے کارخانے بگڑنے اور اپنے دین کے کمزور ہو جانے کا کس قدر خوف تھا اور پھر جب سب کچھ تباہ ہو گیا تو کیسا حزن لاحق ہوا۔ عرب کے ملک سے عیسائیت کا ، یہودیت کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک اسلام والے ہی رہ گئے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مؤرخه ۱۲ را گست ۱۹۰۹ صفحه ۸۸) ۷۲- وَ حَسِبُوا اَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا وَصَلُّوا ثُمَّ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا وَصَلُّوا كَثِيرٌ مِنْهُمْ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ - ترجمہ ۔ اور سمجھے کہ کوئی عذاب یا فتنہ نہ ہوگا پس اندھے ہو گئے ( دل کے ) اور بہرے ہو گئے (حق سننے کے ) پھر اللہ نے ان پر رجوع برحمت فرمایا پھر اندھے اور بہرے ہو گئے بہت سے ان میں کے اور اللہ دیکھ رہا ہے ان کے کرتوت۔ تفسیر ۔ تَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ - رجوع رحمت کیا اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ سا نبی مبعوث کیا۔ ثُمَّ عَمُوا وَصَمُّوا ۔ پھر بھی نہ حق کے بینا ر ہے نہ حق کے شنوا ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۲ مؤرخه ۱۲ اگست ۱۹۰۹ صفحه (۸۸) ۷۳ - لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يبَنِي إِسْرَاءِيلَ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمُ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَا وَلَهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارِ - ترجمہ ۔ البتہ البتہ حق پوشی کی اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا اللہ ہی تو ہے وہ مسیح ابن مریم حالانکہ مسیح نے کہا تھا ( بنی اسرائیل ) کو اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی پوجا کرو میرا بھی رب وہی ہے اور تمہارا بھی وہی البتہ جو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے تو بے شک اللہ نے جنت اس پر حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا تو کوئی مدد گا رنہیں۔ تفسیر - إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَلَهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ انْصَارِ ۔ یہ پختہ بات ہے کہ جو اللہ سے شرک کرے۔ اللہ جنت کو اس پر حرام کر دیتا ہے۔ اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۱)