حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 316
حقائق الفرقان ۳۱۶ سُورَةُ الْمَائِدَة لائف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس پاک کلام کو لوگوں تک پہنچا دینے میں اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی۔ مکی زندگی جن مشکلات کا مجموعہ ہے۔ وہ سب کی سب اسی ایک فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے آپ کو برداشت کرنی پڑی ہیں ۔ لکھا ہے کہ جب مکہ کے شریروں اور کفار نے آپ کے پیغام کو نہ سنا تو آپ طائف تشریف لے گئے اس خیال سے کہ ان کو سنائیں اور شایدان میں کوئی رشید اور سعید ایسا ہو جو اس کو سن لے اور اس پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہو جائے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام طائف پہنچے تو آپ نے وہاں کے عمائد سے فرمایا کہ تم میری ایک بات سنو ۔ لیکن ان شریروں ، قسی القلب لوگوں نے آپ کا پیچھا کیا اور نہایت سختی کے ساتھ آپ کورڈ کر دیا۔ اینٹیں اور پتھر مارتے جاتے تھے۔ اور آپ آگے آگے دوڑتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ بارہ کوس تک بھاگے چلے آئے ۔ اور پتھروں سے آپ زخمی ہو گئے ۔ ان تکالیف اور مصائب کو آپ نے کیوں برداشت کیا ؟ آپ خاموش ہو کر اپنی زندگی آرام سے گزار سکتے تھے پھر وہ بات کیا تھی۔ جس نے آپ کو اس امر پر آمادہ کر دیا کہ خواہ مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ پڑیں۔ لیکن امر الہی کے پہنچانے میں آپ تساہل نہ فرماویں گے۔ قرآن شریف سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے۔ آپ کو حکم ہوا تھا ۔ بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ - جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسے مخلوقِ الہی کو پہنچادے اور فَاصْدَعُ بمَا تُؤْمَرُ (الحجر: ۹۵) جو تجھے حکم دیا جاتا ہے اس کو کھول کھول کر سنا دے۔ اس پاک حکم کی تعمیل آپ کا مقصود خاطر تھا۔ اور اس کے لئے آپ ہر ایک آفت اور مصیبت کو بہزار جان برداشت کرنے کو آمادہ تھے۔ پھر قرآن شریف کے تو تیس سپارے ہیں اور ان میں ہزاروں ہزار مضامین ہیں۔ جن کو پہنچانا آپ کا ہی کام تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی تائید شامل حال نہ ہو اور اس کی نصرت ساتھ نہ ہو تو پشت شکن امور پیش آ جاتے ہیں۔ اس زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ ایک توفی کے امر کو پیش کرنے میں کس قدر دقتیں اندرونی اور بیرونی لوگوں کی طرف سے پیش آ رہی ہیں اور کیا کیا منصوبے اور تجویزیں مخالفوں کی طرف سے آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔ اور وہ شخص جو مسیح موعود کے نام سے آیا ہے اور اس پیغام کو پہنچانا چاہتا ہے وہ بھی بالمقابل ان کی تکلیفوں اور اذیتوں کی کچھ پرواہ