حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 276
حقائق الفرقان ۲۷۶ سُورَةُ الْمَائِدَة کے لینے میں خوف نقصان مال یا جان یا عزت ہے تو پھر مٹی سے تیم کر لو۔ اس بات میں بحث ہے کہ صاف پتھر پر کہ از جنس ارض ہے تیمیم ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ وَلكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمُ ۔ ایسی باتیں بتا کے اللہ طہارت کی روح تم میں پھونکنا چاہتا ہے۔ ان ذرائع سے ترقی کرو۔ تو اللہ تم پر اپنی نعمت کامل کر دے گا شریعت نے ہر ظاہر کے لئے ایک باطن رکھا ہے مثلاً ہر چیز کو دائیں ہاتھ سے لینے کا حکم ہے۔ دائیں کو فارسی میں راست اور اردو میں سیدھا۔ عربی میں یمین اور بائیں کو چپ ، الٹا، شمال کہتے ہیں۔ اس میں ایک نصیحت ہے کہ لین دین میں ہمیشہ راستی کو مد نظر رکھو۔ سیدھا دو۔ الٹے ہاتھ سے نہ دو، نہ لو ۔ ایسا ہی انسان کو اپنی قومیت کا گھمنڈ ہوتا ہے۔ اس میں اصلاح فرماتا ہے کہ تم کو ماء یا تراب سے پیدا کیا۔ آخر تم انہی میں ملنے والے ہو۔ ضرورت کے موقع پر انہی سے ظاہری جسم پاک کرنے کا ارشاد کیا جیسا کہ ان کی اصلیت کا خیال باطنی خیالات کو پاک کرتا ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۸۳) أَيْدِيكُمْ مِنْهُ - شوافع من بعضیہ بتاتے ہیں حنفی ابتدائیہ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۵۰) إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمُ إِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَ ارْجُلَكُمُ (المائدة:) ۔ أَرْجُلَكُمْ يُقْرَءُ بِالنَّصَبِ کیونکہ یہ معطوف على الوجوه والا يدى الى فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم اس طور کا عطف عربی میں بلا کسی خلاف کے جائز رکھا ہے اور سنت نبوی نے اس کی توضیح کر دی ہے کہ وضو کے ساتھ پاؤں کا دھونا فرض ہے۔ اور بعض روایات میں ارجلکم میں لام پر ضمہ بھی پڑا ہے اور مبتدا بنا کر اس کی خبر محذوف نکالی ہے۔ مغسولہ مگر یہ قراءت شاذ ہے۔ اور جر کے ساتھ بھی اکثر قراءت ہیں ۔ اس میں دو وجہیں ہیں ۔ ارجلکم کو معطوف علی الرؤس بنایا ہے اعراب میں اور حکم مختلف ہے۔ رؤس ممسوحہ ہیں اور رجل مغسولہ ہیں ایسے اعراب کو اعراب الجوار کہتے ہیں۔ یہ عربی کثرت سے ہے کوئی منع نہیں اور قرآن کریم میں بھی کثرت سے واقع ہے۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۶)