حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 215

حقائق الفرقان ۲۱۵ سُورَةُ النِّسَاء ارادے کئے مگر کامیاب نہ ہوئے ۔ پھر دیکھا کوئی کامیاب ہوا؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔ اگر قرآن کریم اللہ القادر اور العالم کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کی کوئی تعلیم تو سننِ الہیہ ثابتہ کے خلاف ہوتی ۔ کیونکہ تم مانتے ہو کہ ان پڑھوں میں ان پڑھ رسول تھے۔ عرب میں کوئی کتاب، مدرسہ یونیورسٹی قرآن کے لئے نہ تھی ۔ وہاں اگر یہ کتاب تصنیف ہوئی تھی۔ تو تیرہ سو برس کی تحقیقات یورپ نے کوئی امر قرآن کریم کا خلاف سائنس ثابت کر دیا ہوتا مگر میں چیلنج کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ پھر قرآن کریم کی تعلیم مشتر کہ تعلیم انبیاء و رسل کے خلاف نہیں ۔ اٹکل پچو باتیں کرنے والے کی باتیں اکثر غلط نکلتی ہیں ۔ پس اگر قرآن کریم اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کی اکثر باتیں غلط نکلتیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۳۲۱ تا ۳۲۳) لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ( النساء: ۸۳) یعنی اگر قرآن یا یہ دین خدا سے نہ ہوتا تو البتہ اس میں اختلاف ہوتا اور بہت اختلاف ہوتا حالانکہ اس میں ذرا بھی اختلاف نہیں ۔ تیس برس دکھ اور سکھ کی مختلف اوقات میں باتیں کیں ۔ مختلف احکام دیئے ۔ سبحان اللہ پھر سب کے سب باہم موافق ۔ قرآن آیات کو اسی واسطے متشابہات اور متشابہ کہتا ہے کہ ایک آیت دوسرے کی مصدق اور مثل ہے۔ میں دعوی کرتا ہوں کوئی شخص دو حدیث صحیح ایک مرتبے کی میرے سامنے لاوے میں اسے تطبیق کر کے دکھائے دیتا ہوں ۔ - ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۷۴ ، ۷۵) أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء : ۸۳) کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔ اگر یہ قرآن خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت بڑا اختلاف ہوتا۔ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کے جو دلائل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف پاتے۔ میں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ کیا کیا اختلاف ہو سکتے