حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 171
حقائق الفرقان ۱۷۱ سُورَةُ النِّسَاء ۲۴- حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخُلْتُكُمُ وَ بَنْتُ الْآخِ وَ بَنْتُ الْأُخْتِ وَأَمَّهُتُكُمُ الَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ أَمَّنْتُ نِسَائِكُمْ وَ رَبَّائِبُكُمُ الَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّنْ نِّسَائِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَ حَلَابِلُ ابْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَ أَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأَخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا - ترجمہ ۔ مسلمانو تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری ( رضاعی ) مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا۔ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساسیں ( یہ سب ) تم پر حرام ہیں اور جن بیبیوں کے ساتھ تم صحبت کر چکے ہو ان کی پہلی لڑکیاں جو غالباً تمہاری گودوں میں پرورش پاتی ہیں ( تم پر حرام ہیں) لیکن اگر ان بیبیوں کے ساتھ صحبت داری نہ کی ہو تو ( گیلٹر لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے سے ) تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیبیاں بھی تم پر حرام ہیں اور دو بہنوں کا ایک ساتھ ( نکاح میں ) رکھنا بھی تم پر حرام ہے مگر جو ہو چکا ( سو ہو چکا ) بے شک اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ تفسیر۔ حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور وہ تمہاری مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔ اور دودھ کی بہنیں ۔ اور تمہاری ساسیں اور وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں ہیں ان عورتوں سے جن سے تم نے جماع کیا اور اگر تم تم نے ان سے جماع نہیں کیا تو تم پر ان کے نکاح میں کوئی گناہ نہیں اور حرام کی گئیں تمہاری ان بیٹوں کی جوڑوئیں جو تمہاری پشتوں سے ہیں اور حرام کیا گیا تم پر ایک ہی وقت میں دو حقیقی بہنوں سے نکاح کرنا۔ ہاں جو گزر چکا اسلام سے پہلے تو اللہ غفور رحیم ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸) ربا ببكم ۔ تمہاری بیوی کی لڑکیاں جو پہلے خاوند سے ہوں ۔ خاندانوں میں بعض موروثی بیماریاں ہوتی ہیں ۔ قریب کے رشتے اسی لئے منع ہیں مگر ان کی کوئی روو