حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 162 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 162

حقائق الفرقان ۱۶۲ سُورَةُ النِّسَاء تفسیر - لا تُؤْتُوا السُّفَهَاء أَمْوَالَكُمُ ۔ کم عقلوں ۔ نشیب وفراز نہ سمجھنے والوں کو مال سپرد نہ کرو۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔ صفحہ ۲۲) لَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ ۔ مال کمانا سہل ہے۔ پر خرچ کرنا بہت اہم ذمہ داری کا کام ہے۔ عورتوں کی قوم بڑی کمزور ہوتی ہے۔ پس اموال ان کو نہ دے دو ۔ ایسا ہی لڑکوں کے حوالہ مال نہ کیا کرو۔ کئی لڑکے فضول خرچ ہوتے ہیں ۔ صرف اس لئے کہ انہیں پیسے دے دیئے جاتے ہیں ۔ ہمیشہ چیز منگوا کر دینی چاہیے اس لئے محکمہ کورٹ آف وارڈ ز کا اصول اسلام ہی نے رکھا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر جلد ۸ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۳) وَابْتَلُوا الْيَثْنى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَ بِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَا كُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبًا - ترجمہ ۔ اور یتیموں کو ( دنیا کے ) کا روبار میں لگائے رکھو یہاں تک کہ نکاح ( کی عمر ) کو پہنچیں اس وقت اگر ان میں صلاحیت دیکھو تو اُن کے مال اُن کے حوالے کر دو اور ایسا نہ کرنا کہ اُن کے بڑے ہونے کے اندیشہ سے فضول خرچی کر کے جلدی جلدی اُن کا مال کھا ( پی ) ڈالو ۔ اور جو ( ولی یا سر پرست ) با مقدور ہوا سے بچا رہنا چاہئے اور جو حاجت مند ہو وہ دستور کے مطابق کھالے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کر لو اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔ تفسیر ۔ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ - قرآن شریف نے لڑکے یا لڑکیوں کے سن بلوغ کے متعلق کوئی خاص حد مقرر نہیں فرمائی ۔ بلکہ یوں فرمایا ہے کہ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ (النساء: ۷)۔ اس میں سر یہ ہے کہ اس امر کا قرآن شریف کے نازل کرنے والے کو ہی اس وقت علم تھا کہ مختلف ممالک میں ے یہاں تک کہ نکاح ( کی عمر ) کو پہنچیں۔ ( ناشر )