حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 128

حقائق الفرقان ۱۲۸ سُورَةُ آل عِمْرَان یہاں تک زور تھا اسی واسطے بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ (المائدة: ١٨) وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المآئدۃ: ۶۸ ) کا وعدہ ہوا ۔ ایسے مشکلات میں اللہ تعالیٰ تیرا محافظ ہے۔ بہر حال ان حالات میں شریر دشمن نے مدینہ پر حملہ کرنا چاہا۔ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے رویا دیکھی ہے اس سے خدشہ معلوم ہوتا ہے۔ پس باہر نکل کر نہیں لڑنا چاہیے مگر بعض تیز طبیعت صحابہ نے عرض کیا۔ نہیں حضور باہر ہی چلنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کا جوش دیکھا تو فر ما یا اچھا۔ آپ نے دوز رہیں پہن لیں ۔ صحابہ یہ دیکھ کر ڈرے اور سمجھ لیا کہ امر بہت خطر ناک معلوم ہوتا ہے ۔ پھر عرض کیا کہ حضور اندر ہی لڑیں گے۔ آپ نے فرمایا نبی جب کسی چیز کی تیاری کر لیتا ہے تو ڑک نہیں سکتا۔ اب یہ اس موقع کا ذکر ہے۔ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ کو بٹھاتا تھا مومنوں کو جگہ بہ جگہ جہاں انہیں کھڑے ہو کر لڑنا چاہیے۔ اس سے ایک سبق تمہارے لئے نکلتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ، مناظرہ، مباحثہ بے شک کرو مگر اپنے امام کی منشا کے ماتحت۔ کیونکہ یہ ترتیب جس کا انجام فتح و ظفر ہو اللہ کے بندے ہی جانتے ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۹) -۱۲۳ - اِذْ هَمَّتْ طَائِفَتْنِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۖ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ۔ ترجمہ۔ جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ پھسل جائیں حالانکہ اللہ مددگار ہے اُن دونوں کا اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ایماندار۔ تفسیر - اِذْهَمَّتْ ظَائِفتن ۔ یہ گروہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے۔ خدا نے پردہ پوشی کی۔ انہوں نے خود ہی اپنے نام بتائے ۔ کسی نے کہا تَفْشَلا کے الزام کے نیچے آنا کیوں ظاہر کرتے ہو؟ کہنے لگے وَاللهُ وَلِيُّهُمَا کی خوشخبری خموش نہیں رہنے دیتی۔ مومن انسان کبھی کبھی کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ جنگ کا موقع ، پھر شہوت کا مقابلہ، غیظ و غضب کا لے پہنچادے جو تیری طرف وحی کی گئی تیرے رب سے۔ ۲ے اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے ۔ ( ناشر )