حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 126 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 126

حقائق الفرقان ۱۲۶ سُورَةُ آل عِمْرَان ١١٩ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمُ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَا لَكُمُ الْآيَتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ - ترجمہ ۔ اے ایمان والو! نہ بناؤ راز دار اپنے سوا وہ کچھ کی نہیں کرتے تمہارے حق میں خرابی کی ۔ وہ سب چاہتے ہیں وہ جو تم کو تکلیف دے تحقیق ظاہر ہوئی بغض کی بات اُن کے مونہوں سے اور وہ دشمنی جو اُن کے سینوں میں چھپی ہوئی ہے وہ تو بہت ہی بڑی ہے۔ تحقیق ہم نے کھول کھول کر بتا دیں تم کو اپنی آیات اگر تم عقلمند ہو۔ تفسیر - بطانة - اندرونی دوست نہ بناؤ۔ اس کی تصریح سورۃ ممتحنہ میں خوب فرمائی ہے۔ اب اس سے آگے اُن کے طرز عمل سے اطلاع دی ہے تا محفوظ رہ سکو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۱۸ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۸) ر ۱۲۲ - وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَرِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ ترجمہ۔ اور جب تو صبح کو نکلا اپنے اہل سے تو مومنوں کو بٹھاتا تھا لڑائی کے موقعوں پر اور اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔ تفسیر۔ مکہ کے لوگوں میں خود پسندی اور خودی بہت تھی ۔ اس کی جڑ آسودگی ہے کیونکہ تمام جہان کی پوجا کا مال ان کے پاس آتا تھا۔ پھر مکہ ایک بڑا معبد تھا تمام عرب والے اس کی پوجا کرتے تھے اس لئے یہ لوگ اپنے تئیں مہنت سمجھتے تھے۔ تیسری وجہ ان کی خود پسندی کی رِحْلةَ الشَّتَاءِ وَ الصَّيْفِ (القريش: ۳) تھی یعنی وہ تجارت کے لئے موسم گرما میں عراق ، شام و مصر وغیرہ کی طرف جاتے تھے اور سرما میں ہندوستان، چائنا کی طرف جتنی تجارت پیشہ تو میں ہیں وہ ایک وقت آسودگی کی وجہ سے خودی اور خود پسندی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ خودی اور خود پسندی والے ہر بات پر ناک چڑھانے کے عادی ہو جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ