حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 124

حقائق الفرقان المولد سُورَةُ آل عِمْرَان حَبْلُ النَّاس کے اور گرفتار ہو گئے اللہ کے غضب میں اور لگا دی گئی اُن پر مسکنت یہ اس لئے کہ وہ اللہ کے نشانات کے منکر اور حق پوشی کرتے اور ناحق تمام انبیاء سے لڑتے ہیں ۔ یہ دلیریئیں اس لئے کیں کہ انہوں نے نافرمانی اختیار کی اور وہ حد بندیوں سے آگے بڑھ گئے ۔ تفسیر - إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ ۔ ہاں مسلمانوں کے معاہدہ کے نیچے یا دوسرے لوگوں کے معاہدہ و تعلقات کے اندر اس سے کچھ محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ تقدیر عبارت یوں ہے أَيْنَ مَا ثُقِفُوا مَا عُصِمُوا مِنَ الذِّلَّةِ إِلَّا عُصِمُوا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ یہ عُصِبُوا میں نے دو آیات سے نکالا ہے وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ (آل عمران : ۱۰۴) اور مَنْ يَعْتَصِمُ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ( ال عمران: ۱۰۲) مطلب یہ ہے کہ جہاں پائے گئے ذلت سے نہیں بچیں گے ۔ مگر مسلمانوں کے عہد نامہ میں اس بری ذلت سے کچھ نہ کچھ بچ سکتے ہیں ۔ ایک اور معنے ہیں وہ یہ کہ یہودی ہمیشہ ذلت میں رہیں گے ہاں اگر اللہ کے رسن کے نیچے آجاویں یعنی مسلمان ہو جاویں یا کوئی اور مذہب اختیار کر لیں تو پھر بچ سکیں گے۔ یہودی۔ یہودی رہ کر کبھی فلاح نہیں پاسکتے ۔ الا کو عاطفہ بھی بنایا ہے یعنی والا مطلب یہ ہے کہ وہ ذلت سے نہ بچیں گے خود مسلمانوں سے عہد نامہ کریں یا کسی دوسرے مذہب سے۔ الْمَسْكَنَةُ ۔ یعنی سلطنت کے لئے ہاتھ پاؤں نہیں مارسکیں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مورخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۸) وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٌّ (ال عمران: ۱۱۳ ) مفردات القرآن میں لفظ قتل کے نیچے لکھا ہے قَتَلْتَه ذللته ۔ تو اس معنی کر کے تم لوگ ذلیل کرنا چاہتے ہو انبیاء کو ناحق اور قتل کے معنی سخت مارنا یا مار ڈالنا بھی آیا ہے تو اس لئے معنی ہوئے سخت مارنا یا مار ڈالنا چاہتے ہو۔ يَقْتُلُونَ مضارع کا صیغہ ہے مطلب یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذلیل کرنے یا سخت مارنے یا قتل کرنے میں تمام انبیاء کا قتل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا اے جہاں کہیں بھی پائے گئے ذلت سے بچائے نہیں گئے مگر اللہ کے کسی عہد کی وجہ سے بچائے گئے ۔ ( ناشر ) ے اپنے آپ کو بچاؤ حبل اللہ کے ذریعہ سے۔ سے جو اللہ کو مضبوط پکڑلے تو بے شک اس نے پالی سیدھی راہ۔