حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 119

حقائق الفرقان ۱۱۹ سُورَةُ آل عِمْرَان ١٠٦ - وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَتُ وَ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ - ترجمہ۔ اور تم نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جو متفرق ہو گئے اور آپس میں جھگڑے ڈالے اس کے بعد کہ ان کے پاس بہت کچھ نشانات آچکے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے۔ تفسیر - وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا۔ دیکھو تفرقہ بہت بری چیز ہے اور اس کا انجام دکھ اور در داور ذلت کی زندگی کے سوا کچھ نہیں ۔ عیب چینی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کرنا چھوڑ دو۔ اس قسم کی نازک خیالی ٹھیک نہیں کہ فلاں کی جیب میں دو پیسے ہیں شاید اس نے کہیں سے چرائے ہیں۔ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چور بحالت ایمان ، چوری نہیں کرتا اور جو چور ہے اس کا گویا خدا کے رزاق ہونے پر ایمان نہیں اور چوری کو خدا کے وعدہ پر مقدم کرتے ہو ۔ اس لئے کافر ہو۔ دیکھو! ایک شخص کہاں سے کہاں جا پہنچا۔ رسول کریم نے فرمایا کہ تم اپنے باپوں کو گالیاں نہ دو۔ صحابہ نے عرض کیا حضرت کوئی اپنے باپ کو باپ کو بھی گالی دیتا ہے ( اب تو ہے ( اب تو بیٹے باپ کو مارتے بھی ہیں ) تو آپ نے فرمایا جب تم نے کسی کے باپ کو گالی دی تو گویا اپنے باپ کو دی کیونکہ وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ ، با بدی کا بدلہ بدی سے دینا گویا ایک اور بدی کرنا ہے۔ صبر بڑے بڑے پھل رکھتا ہے۔ ہم یہاں سب کیوں آئے ۔ ہر ایک شخص اپنی اپنی نسبت جانتا ہے۔ میں تو یہاں دین سیکھنے کے لئے آیا تھا۔ ایک دفعہ مرزا صاحب کے منہ سے اتنا نکلا تھا کہ تم اپنے وطن کا خیال تک بھی نہ لاؤ۔ سوا سکے بعد میں نے وطن کی کبھی خواہش نہیں کی۔ یہاں میں نے مالی جانی نقصانات اٹھائے مگر صبر کیا۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ اس صبر کا اجر مجھے مل گیا کہ میں مظفر و منصور ہو گیا۔ کوئی وظیفہ کوئی عمل تم سے الگ مجھے نہیں آتا پھر بھی میں نے وہ بات حاصل کی جو میرے ایسے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی۔ انسان کی روح میں ایک تڑپ معیت کی بھی ہے۔ اللہ وعدہ کرتا ہے کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔ ایک معمولی انسان کا ساتھ کتنی بڑی بات ہے۔ پس جس کے ساتھ خدا ہوا سے اور کیا چاہیے۔