حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 117

حقائق الفرقان ۱۱۷ سُورَةُ آل عِمْرَان دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ میں گھبرا اٹھتا ہوں اور معا میں سمجھتا ہوں کہ یہ فقرہ انسانی فطرت اور طبع کا نتیجہ نہیں ہے انسان یہ بات ایجاد کر سکتا ہی نہیں انسان کی ایجاد تو یہ ہے کہ خالق سے خلقت رکھنی مشکل ہے پیچھے تو بہ کر لیں گے۔ میاں ایہہ جگ مٹھاتے اگلا کس ڈٹھا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مؤرخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۶،۵ ) یا درکھو! دنیا ایک مدرسہ ہے اس مدرسہ کی رسہ کشی میں وہی کامیاب ہوگا جو حبل اللہ کو ہاتھ سے نہ دے گا۔ پس اس وقت ضرورت ہے کہ تم میں عملی زندگی پیدا ہوا اور تفرقہ نہ ہو۔ میں پھر تمہیں اللہ کا حکم سناتا ہوں وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا - ( بدر جلد ۱۲ نمبر ا مؤرخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۶) تفرقہ مت کرو دیکھو تفرقہ نہ کرو اگر تفرقہ کرو گے تو جانتے ہو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہ حبل اللہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی تم بھی بودے ہو جاؤ گے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمُ (الانفال :۴۷) تنازعہ کرو گے تو بودے ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا نکل جائے گی پھر تمہارا جتھاٹوٹ کر قوت منتشر ہو جائے گی اور دشمن تم پر قابو پا جائیں گے ہاں اگر تنازعہ پیدا ہو تو اس وقت تمہیں صبر سے کام لینا چاہئے ۔ الہ اللہ تعالیٰ نے یہی ارشاد کیا ہے کیونکہ جب جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو ایک طرف غضب آتا ہے اگر دوسری طرف بھی اس غضب سے کام لیا جاوے تو نتیجہ اس کے سوا نہیں ہوگا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ کر ہلاک ہو جاؤ گے۔ پس ایسے موقع کے لئے محض اپنے کرم اور غریب نوازی سے یہ تعلیم دی کہ صبر کرو اگر صبر سے کام لو گے تو نتیجہ کیا ہو گا اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ ( البقرۃ: ۱۵۴) تنازعہ کے باطل کرنے کا یہی طریق ہے کہ صبر سے کام لو۔ انسان جب صبر کرتا ہے تو ایک نور اس کے قلب پر اترتا ہے جس سے اس کو سکینت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور وہ جوش کی آگ جو اس کے اندر بھڑکنے والی تھی بالکل ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ یہ ظہور ہوتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ کا خدا تعالیٰ کی معیت اس طرح پر اپنا کام کرتی ہے اور پھر جس کے ساتھ خدا ہو اس کی کامیابی اور فتح میں کیا کلام ” خداداری چه غم داری ۲ انسان خدا کی محبت ے اور آپس میں نہ لڑو کہ ہمت ہار دو گے ، پھسل جاؤ گے اور تمہاری ہوا بگڑ جائے گی۔ اگر تو خدا تعالیٰ سے پختہ تعلق رکھتا ہے تو غم کس بات کا۔