حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 103 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 103

حقائق الفرقان ۱۰۳ سُورَةُ آل عِمْرَان علم پر موقوف ہو۔ پر خدا کا ماننا بھی بہت سی بدیوں سے روک دیتا ہے۔ میں جب کبھی کسی شہر میں جاتا ہوں تو اپنے مذاق کے لوگوں کے پاس جا کر ڈیرہ کرتا ہوں ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ گویا گانے والوں کے مکان پر ، اور فقیر تکیہ پر، برہمن ٹھا کر دوارے میں اور عیسائی مشن کمپاؤنڈ میں ۔ اس کی تلاش کر کے جا ڈیرہ لگاوے گا ۔ پس انسان جس سے تعلق پیدا کرتا ہے اسی کے پاس رہنا اور سہنا اس کو مطلوب ہوتا ہے۔ اسی سے حسب استطاعت رنگین ہوتا ہے ۔ حکام اپنے ہم مذاق حکام کے مکانوں پر جاتے ۔ پس اسی طرح جب انسان کو خدا پر ایمان اور تعلق ہوتا اس کی ربوبیت ، پاک ہستی ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت پر ایمان ہوتا ہے اور یہ کہ کس طرح یہ ربوبیت کا محتاج ہے اور اس کے محامد کا مطالعہ کرتا ہے تو اس طرف خیال آجاتا ہے کہ میں ایک گندہ اور نا پاک انسان ہو کر کس طرح اس پاک اور قدوس خدا کے دربار میں منہ دکھلاؤں گا ۔ جب تک ایک مناسبت انسان میں نہیں ہوتی اس وقت تک دوسرے سے تعلق پیدا نہیں کر سکتا۔ جیسے ہمیں اپنے مذاق کا ہی آدمی پیارا لگتا ہے۔ پس تمام نیکیوں کی جڑ اور حصل حصول اور خوبیوں کے واسطے عظیم الشان ذریعہ خدا کی شان ہی ہو سکتی ہے۔ پولیس ہم کو بدیوں کے ارتکاب سے روکتی پر تمام بدیوں کی جڑ تو دل میں ہوتی اور اس کو جب تک خدا نہ روکے رک نہیں سکتا ۔ پس اس کی ہستی کا اقرار اور اس پر ایمان اور اس پر یہ یقین کہ اس کو بدیوں اور بداعمالیوں سے پیار نہیں ۔ گناہ سے بچنے کا عمدہ ذریعہ ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ میرے ایک دوست نے مجھے سوال کیا کہ جب ہم دوزخ سے سزا پا کر بہشت میں چلے جاویں گے تو کیا حرج ہے کہ کچھ وقت کے لئے اس عذاب کو برداشت کر لیں اور پھر بہشت میں چلے جاویں ۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ ہم اس وقت ایک بازار میں چلے جاتے ہیں اور یہاں ہمارا واقف بھی کوئی نہیں۔ میں تمہیں دور و پیہ نذر دیتا ہوں مجھے سر پر دو جوت لگا لینے دو۔ تو وہ ڈر گیا کہ یہ کہیں ایسا کر نہ بیٹھے اور کہا کہ دیکھنا کہیں ایسی حرکت کر نہ بیٹھنا۔ پس میں نے کہا کہ دیکھو یہاں تم کو دور و پیر بھی ملتے ہیں اور کوئی ہمارا شناسا بھی نہیں ہے تو تم صرف دو جوت کو پسند نہیں کرتے ۔ پھر کیا دو کو ۔ وجہ کہ اس ذلت کو تم ساری دنیا کے سامنے پسند کرو گے ۔ پس یہ شہادت تو تمہاری اپنی فطرت میں