حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 98
حقائق الفرقان ۹۸ سُورَةُ آل عِمْرَان سے انسان کس طرح آگاہ ہو سکتا ہے۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تقوی کا حکم دیتا ہے کہ حق تقوای ادا کرو۔ تقوی کہتے ہیں اس بات کو جس سے انسان دُکھوں اور تکالیف سے بچ سکتا ہے۔ عربی زبان میں اس کا نام تقوی رکھا ہے۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۹) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران: ۱۰۳) ایمان والو، متقی بن جاؤ اور جو تقوی کا حق ہے وہ ادا کرو اور نہ مریومگر اس حالت میں کہ تم فرمانبردار ہو۔ گویا تم موت کو کہہ دو کہ آ جب تیری مرضی ہے تو ہم کو مسلمان پائے گی ۔ موت کا کسی کو کیا علم ہے کہ کب آ جائے گی اور یہاں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمہیں ایسی حالت میں موت آوے کہ تم کامل فرمانبردار ہو۔ یہ بڑا مشکل مرحلہ ہے جو کبھی طے نہیں ہو سکتا۔ جب تک ہر گھڑی انسان موت کے لئے تیار اور فرمانبردار نہ ہو۔ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲۲، ۲۳ مورخه ۲۱ و ۲۸ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۱۶) اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقْتِه “ (ال عمران: (۱۰۳) قيل منسوخة بقوله " فَاتَّقُوا الله مَا اسْتَطَعْتُمُ “ (التغابن : ۱۷ ) وقيل لابل محكمة فوز الکبیر میں ہے حق تقاته کا حکم شرک اور کفر اور اعتقادی مسائل میں ہے اور ما استطعتم کا حکم اعمال میں ہے مثلاً جو کوئی وضو نہ کر سکے تیم کرلے۔ جو کوئی کھڑا نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھ لے اور یہ توجیہ سیاق آیت سے ظاہر ہے۔ یہ لمسی رد نسخ۔ تصانیف حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۷۳) یا ۔ اے۔ أَيُّهَا ۔ سن لو تمہیں کو سناتے ہیں ۔ الَّذِينَ آمَنُوا ۔ وہ لوگ جو ایمان لائے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ ثقته ۔ بیٹا اپنے باپ کا کہا مانتا ہے۔ شاگرد اپنے استاد کا محکوم اپنے حاکم کا۔ دوست اپنے دوست کا اور یہ سب تعلیم کسی فائدہ کے حصول پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارا حکم اسی فائدہ کے حصول پر بنی ہے اللہ تعالی فرما بھی مان لو تا تم فلاح دارین پاؤ ۔ وہ حکم کیا ہے؟ تقوی اختیار کرو اپنا سارا زور لگا کر۔ زورلگا ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۶ ) و۱۸ تنہائی میں بیٹھ کر اگر ایک شخص کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ ایسا مکان ہو، ایسالباس