حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 84
حقائق الفرقان ۸۴ سُورَةُ الْبَقَرَة نعمت جو خدا کی طرف سے انسان کو ملی ہے وہ مراد ہے یعنی وہ ہمہ تن بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے تیار رہتا ہے اور ہر ایک گوشہ اور پہلو سے اس خدمت کو بجالاتا ہے۔ اس کی نظیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے جو کہ انسان کے ہر ایک حال اور مذاق کے موافق آپ نے دی ہے آپ کے انفاق سے جیسے ایک تاجر اسلامی اصول کے مطابق تجارت کر کے خدا کی رضا حاصل کرتا ہے ویسے ہی ایک جنگجو جنگ کی تعلیم لے کر رضائے الہی کو حاصل کر سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے واسطے اپنی عادتوں کو بدلنا ، اخلاق رذیلہ کو چھوڑ دینا یہ بھی ایک انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اسی طرح زبان سے نیک باتیں لوگوں کو بتلانی اور برائیوں سے روکنا بھی اس میں داخل ہے ۔ اگر خدا نے علم دیا ہے تو اسے لوگوں کو پڑھاوے۔ اگر مال و دولت دی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقوں سے اس کے محل پر صرف کرے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے واسطے خرچ کرنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ اس کی اولاد تک کی اللہ تعالیٰ حفاظت کرتا ہے اور نہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کبھی کم ہوتا ہے بلکہ اس میں اور زیادتی ہوتی ہے ۔ ز بذل مال در راہش کسے مفلس نمی گردد خدا خود می شود نا صر ا گر همت شود پیدا ! فی زمانہ حال انفاق کا بڑا محل یہ ہے کہ اپنے حوصلوں کو وسیع کر کے اس الہی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کے واسطے مال و زرد یا جاوے۔ اُس وقت بھی جس نے مال وزر سے پیار نہ کیا اور دین کی خدمت میں اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے صرف کیا وہی اعلیٰ مرتبہ پا گیا اور صدیق بنا۔ اب بھی جو کرے گا بنے گا اور خدا اس کی محنت اور سعی کو ضائع نہ کرے گا۔ اُمیدِ دیں روا گرداں، امید تو روا گردد زصد نومیدی و یاس و الم ، رحمت شود پیدا ۲ اے اس کی راہ میں مال خرچ کرنے سے کوئی مفلس نہیں ہو جایا کرتا اگر ہمت پیدا ہو جائے تو خدا خود ہی مددگار بن جاتا ہے۔ ۲ تو دین کی امید پوری کرتا کہ تیری امیدیں پوری ہوں سینکڑوں نا نکڑوں نا امیدیوں اور یاس اور غم کے بعد رحمت پیدا ہو جائے گی۔ (ناشر)