حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 76

حقائق الفرقان ۷۶ سُورَةُ الْبَقَرَة ہر روز تین گھنٹے عبادت خدا کے قرار دیئے گئے یعنی نو بجے اور بارہ بجے اور تین بجے مگر چونکہ نماز ر نو میں مجتہدین کی ضرورت تھی اور اس کا علم قطعی نہ تھا کہ خودحضرت موسی کیونکر نماز پڑھتے تھے لہٰذا اکثر اوقات یہود کی نماز صرف ایک مصنوعی فعل ہوتا تھا ۔ حضرت مسیح نے جو آخری رسول یہود کے تھے اور ان کے حواریین نے بھی عبادت کی تاکید کی۔ مگر افسوس اس میں بھی یہ نقص رہ گیا کہ کوئی محدود و معین قاعدہ نماز کا انہوں نے ترتیب نہ دیا اس لئے چند عرصے کے بعد عبادت خدا کا معاملہ بالکل عوام الناس کی رائے پر موقوف ہو گیا اور پادریوں ہی کے اختیار میں رہا جنہوں نے نماز کی تعداد اور مدت اور الفاظ وغیرہ مقرر کرنا اپنے ہی فرقے میں منحصر کر دیا اسی وجہ سے دعاؤں کی کتابیں تصنیف ہوئیں اور قسیسین کی کمیٹیاں اور مجلسیں منعقد ہوئیں تاکہ اصول دین اور ارکان ایمان مقرر کریں اور اسی وجہ سے راہبوں نے عجیب پر تکلف طریقہ عبادت کا نکالا اور گرجوں میں ہفتہ وار نماز قرار دی گئی یعنی چھ روز کی غذائے روحانی نہ ملنے کی مکافات صرف ایک روز کی نماز سے کی گئی ۔ الغرض یہ سب خرابیاں منتہی درجے کو پہنچ گئیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں رسول عربی نے ایک مہذب اور معقول مذہب تلقین کرنا شروع کیا۔ آنحضرت نے نماز پنجگا نہ کا طریقہ اس لئے جاری کیا کہ آپ خوب جانتے تھے کہ انسان کی روح حق سبحانہ و تعالیٰ کی حمد وستائش کرنے کی کیسی مشتاق رہتی ہے اور نماز کے اوقات مقرر کر دینے سے آپ نے ایک ایسا مضبوط قاعدہ نماز گزاری کا معین کر دیا کہ نماز کے وقت انسان کا دل عالمِ روحانی سے عا عالم روحانی سے عالم مادی کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہو سکتا۔ جو صورت اور ترکیب آپؐ نے نماز کی اپنے قول و فعل سے مقرر کر دی ہے اس میں یہ خوبی ہے کہ اہلِ اسلام ان خرابیوں سے محفوظ رہے ہیں جو اس لڑائی جھگڑے سے پیدا ہوتی تھیں جو عیسائیوں میں نماز کی ترکیب پر ہمیشہ ہوا کرتے تھے اور پھر ہر مسلمان کو گنجائش رہی کہ بکمال خشوع و خضوع عبادت خدا میں مصروف ہوئے۔ پابندی اوقات میں ایک قدرتی تاثیر ہے کہ وقت معینہ کے آنے پر قلب انسانی میں ا تنقید الکلام ترجمه لائف آف محمد بائی سیدامیر علی ۱۲