حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 67
حقائق الفرقان ۶۷ سُورَةُ الْبَقَرَة منارے پر چڑھ کر بلاوے اور اپنی عبادت کی خوبی بتلاوے اور پھر اپنی اس منادی کو خدا کی کمال تعظیم پر ختم کرے؟ سوچو! یہی معنی کلمات اذان کے ہیں۔ ہاں ! ہادی اسلام نے قوم کو گھنٹوں، سیپوں ، ناقوسوں ، سارنگیوں، بربطوں سے قوم کو معافی بخشی بلکہ یوں کہیے بچالیا۔ یہ اسلامی ہی مذہب کی خصوصیت ہے کہ اپنی ہر ایک کتاب کی ابتدا میں اپنے خالق کی ستائش کریں۔ اپنے محسن کی تعریف کریں۔ اس کے لئے دعا مانگیں ۔ لکچروں کی ابتدا میں یہی حال ہے ( لکچر کا ترجمہ خطبہ ہے) بلکہ لیکچر کی خوبی بھی اسلامیوں پر ختم ہے کھڑے ہو کر لکچر دینا تو ان کی ہر نماز جمعہ میں دیکھ لومگر غور کے قابل یہ ہے کہ عین لیکچر میں جہاں اور قوموں کو تالی بجانے کا موقع ملتا ہے وہاں اسلام میں اللہ اکبر اور سُبحان اللہ موزوں ہے۔ ( فصل الخطاب المقدمة اہل الکتاب حصہ اول - صفحه ۳۲ تا ۳۴) دُنیا کے مذاہب پر غور کرنے اور قریباً گل اقوام عالم کو ایک ہی بڑے مرکز اور مرجع کی طرف بالاشتراک رجوع ہو ہو دیکھنے اور قانون قدرت کے معجز بے نقص کتاب کے مطالعہ کرنے سے فطرت سلیم، قوت ایمانی ، ت ایمانی ، نور فراست کے اتفاق سے فوراً شہادت دے اُٹھتی ہے کہ ایک ہمارا خالق زمین و آسمان ہے جس کی قدرت کاملہ کل عالم پر محیط اور تمام اشیاء میں جاری وساری ہے۔ غرض ایک ہمہ قدرت ، فوق الگل وجود کا خیال یا اعتقاد قریباً گل اقوامِ دُنیا میں پایا جاتا ہے۔ یہ فطرت کا اشتراک اور قوائے باطنیہ کی اضطراری توجہ ایک اعلیٰ ہستی کی جانب وجود باری کی عجیب دل نشین دلیل ہے۔ اب عالم اسباب یا اسباب عالم پر جب انسان نظر کرتا ہے تو خوب سمجھتا ہے کہ عالم کون و فساد کے انقلابات میں وہ ہمیشہ مجبور و معذور ہے اور یہ کہ تمام اختیارات کے مواد اور مقدورات کے اسباب اس کی قدرت سے باہر ہیں۔ مثلاً جب دیکھتا ہے کہ بڑے بڑے قوائے طبعی سورج، چاند، ستارے، ہوا، بادل وغیرہ میرے بے مز د خدمت گار ہیں بلکہ جب وہ اپنے اسباب قریبہ یعنی جسم ہی کو دیکھتا ہے کہ کیسے مناسب آلات اور موافق ادوات اس کو ملے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مفقود ہو جائے تو جبر کسر کے لئے اس کا یا اس کے مثل بے نقص جزو کا موجود کرنا اس کے امکان سے خارج ہے۔