حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 645
جبر جلا وطن میں بڑی جرات سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام اور بنی اسرائیل جب شرارت میں حد سے بڑھ گئے تو ان کے راشد جانشینوں کے زمانے میں کوئی شخص خدا تعالیٰ نے ان پر ذلت و مسکنت لیس دی ۔ وہ جبر و اکراہ سے مسلمان نہیں بنایا گیا۔ سرولیم میور کہتا ہے ۔ شہر مدینے کے ہزاروں ۵۹۲ بابل میں جلا وطن کئے گئے جھوٹ ۶۰۲ مسلمانوں میں سے کوئی ایک شخص بھی بزور وا کراہ قرآن میں جھوٹ بولنے والے پر لعنت آئی ہے ۱۲۱ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا بھلا خیال تو کرو اگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو ۵۹۱ حج ہندوستان میں اتنے سو سال حکومت رہی پھر یہ ہزاروں برسوں کے مندر، شوالے اور پستکیں کیوں اسلام کا اعلیٰ رکن موجود پائی جاتیں جبرائیل جبرائیل و میکائیل۔ دینیات کا مرکز جبرائیل ہے اور دنیوی کارخانہ کا میکائیل ۵۷۳ ۲۸۳ حفاظت کا وعدہ こ اني أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوا بِالْإِسْتِكْبَارِ حدیث (حقوق) جب اللہ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو وہ جبرائیل تیرے پر نفس کے بھی حقوق ہیں تیری بیوی کے بھی کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت حقوق ہیں کا محبوب ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں حلاله مقبول ہو جاتا ہے ۵۷۸ حلالہ اس چیز کا نام ہے کہ موقت نکاح کرتے ہیں جہاد ادھر نکاح و جماع اور صبح طلاق ۔ پھر پہلا شو ہر نکاح جہاد کی ضرورت ۴۹۳ ،۴۹۲ ،۴۲۷ کر لیتا ہے سورہ بقرہ اوّل سے آخر تک جہاد کی ترغیب میں نازل ہوئی ۴۷۷ ۵۰۲ ۱۸۳ ۲۴۸ ۵۴۶ حلالہ جائز نہیں۔ اپنی مرضی سے طلاق دے ۵۴۷