حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 629
حقائق الفرقان ۶۲۹ سُورَةُ الْبَقَرَة ۲۸۵ - لِلهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُم بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ترجمہ ۔ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اگر چہ تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ اللہ تم سے حساب لے گا اُس کا پھر بخشے گا جسے چاہے گا اور عذاب دے گا جسے چاہے گا اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے۔ I تفسیر - یہ سورۃ بقرۃ کا خاتمہ ہے۔ وہ بات جو میں نے ابتدا میں بیان کی تھی اس کا اس میں بھی پتہ جو نے لگتا ہے کہ اصل غرض اس سورۃ کریمہ کی اعلانِ جہاد ہے چنانچہ فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرۃ: ۲۸۷) میں اس مطلب کو ظاہر کر کے ختم کر دیا۔ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں بتایا کہ بعض منعم علیہم مغضوب بھی بن جاتے ہیں چنانچہ وہ بنی اسرائیل جن کی نسبت فرمایا أَذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُم (البقرة: ۴۸) انہی کی نسبت بَاءُو بِغَضَبٍ مِنَ الله " (البقرۃ: ۶۲) فرمایا کہ منعم علیہم کی کیا صفات ہیں اور مغضوب علیہم اور ضالین کا انجام کیا ہے؟ پھر منعم علیہم میں سے ابراہیم اور اسباط کا ذکر کیا۔ پھر جہاد کے لئے آیات فرمائیں اور قَاتِلُوا میں اس کی تصریح کر دی۔ چونکہ جنگوں میں جوش کے لئے شراب اور خرچ کے لئے میسر کا طریق تھا اس لئے اس کی نسبت احکام صادر فرمائے اور لڑائی میں بعض بیوہ ہوئیں ، بعض بتائی۔ کچھ خانگی تنازعات پیش آئے ۔ اس لئے ان کے بارے میں ضروری احکام بتا دیئے۔ پھر بتا دیا کہ تم ایسے نہ بننا جیسے موسی کے ساتھی تھے اور نہ ایسے جیسے طالوت و داؤد کے زمانے میں بعض ہوئے ۔ اسی ضمن میں انفاق کی تاکید فرمائی اور بتایا کیوں دے؟ کیا دے؟ کہاں سے دے؟ کس طرح دے؟ پھر اسی سورۃ میں توحید، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اور تمام انسانی فضائل و رذائل کا بیان فرمادیا۔ گویا یہ سورۃ ایک جامع سورۃ ہے۔ اب اخیر میں بیان فرما یا لِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا لے تو ہماری مدد کر کا فرقوم کے مقابلہ میں۔ ۲۔ تم میرے ان انعاموں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے۔ سے وہ اللہ کے غضب میں آگئے۔ (ناشر)