حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 615
حقائق الفرقان ۶۱۵ سُورَةُ الْبَقَرَة ۲۶۷- اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيلٍ وَ أَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَ أَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا اعْصَارٌ فِيهِ نَارُ فَاحْتَرَقَتْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ - ترجمہ ۔ کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کرتا ہے کہ اُس کا ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا بہہ رہی ہوں اس کے نیچے نہریں۔ باغ والے کو اُس باغ میں سب قسم کے پھل پھلا ری میسر ہوں اور وہ بڑھا ہو جاوے اور اس کے چھوٹے چھوٹے ناتواں بچے ہوں پھر آپڑا اس باغ پر جھاڑوں کو جلانے والا گرم ہوا کا جھونکا جس میں آگ تھی تو وہ باغ جل گیا۔ اسی طرح اللہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے تم سے آیتیں تا کہ تم غور کرو۔ تفسیر - آيَوَدُّ اَحَدُكُمْ ۔ اِس آیت میں تمام درختوں میں سے تخیل واعناب کا ذکر بالخصوص اس لئے کیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ قسم کے درخت ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے اس لئے کہ اس میں چند خاصیتیں ہیں ۔ اوّل تو یہ کہ اس کے پتے ہوا سے نہیں جھڑتے ۔ مومن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ قسم قسم کی مصیبتوں میں گھبرا نہ اُٹھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھ پر بہت سی مصیبتیں یک لخت ٹوٹ پڑیں۔ میں جماعت کرانے لگا الْحَمْدُ کے آل تک پہنچا تھا کہ حمد پڑھنے سے میری طبیعت نے مضائقہ کیا۔ میں نے اپنے دل سے سوال کیا کہ تو ایک قوم کا امام ہو کر الحمد پڑھنے لگا ہے۔ کیا واقعی تیرا قلب شرح صدر سے اللہ کے حضور میں شکر گزار ہے۔ اس وقت بہت اضطراب کا وقت تھا۔ ایک طرف یہ خیال کہ مقتدی منتظر ہیں دوسری طرف یہ کہ اگر نہیں پڑھتا تو مقتدیوں کو ابتلا ہے اور اگر پڑھتا ہوں اور شرح صدر سے نہیں پڑھتا ہوں تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔ قربان جاؤں اپنے مولی کے۔ معااس نے میری دستگیری کی اور سمجھایا۔ ہم کوئی مصیبت بھیجتے ہیں اور اس پر اگر کوئی شخص صبر کرتا ہے تو ہم اسے بہتر سے بہتر بدلہ دیتے ہیں۔ پس ایک کوڑی ضائع کرنے سے پونڈ ملے تو رنج کی کونسی بات ہے۔ اب کیا معلوم کہ اس میں کس قدر