حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 599 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 599

حقائق الفرقان ۵۹۹ سُورَةُ الْبَقَرَة چال پر ذرا حکومت دکھاؤ۔ جن لوگوں کو اس نکتہ چینی کی سمجھ نہیں آئی انہوں نے کہا کہ ابراہیم نے ان الله يأتي کہہ کر تبدیل استدلال کیا ہے اور صوفیوں نے یہ بتایا ہے کہ پہلی دلیل کو قوی کیا ہے۔ یہ بات یا درکھو کہ انبیاء کا طریق مباحثات میں یہ ہے کہ وہ اپنا آپ درمیان سے نکال دیتے ہیں ۔ وہ جناب النبی کے حکم کے نیچے ہو کر کام کرتے ہیں اس لئے مناظروں میں ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور وہ کافر بھونچکا ہو کر رہ گیا۔ ایک بات یاد آئی کہ ابنِ صیاد کے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) گئے اور اسے کہا میرے دل میں کیا ہے؟ اُس نے کہا ۔ دُخُ ۔ آپ کے دل میں يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِينٍ (الدخان: 1) تھی۔ اس نے بتایا کہ دُخ کے متعلق کوئی مضمون ہے آپ نے فرمایا اخْسَأُ لَمْ تَعْدُ قَدْرَكَ ذلیل رہ۔ اس سے نہیں بڑھے گا۔ مطلب یہ تھا کہ آئندہ ہم احتیاط کریں گے۔ جناب النبی کے حکم کے نیچے حسب دستور مناظرہ ہوگا پھر تو کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۶ رمتی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۶، ۴۷) ابراہیم علیہ السلام نے بادشاہ وقت سے بھی مقابلہ کیا اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی عظمت کے قائم کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس مباحثہ میں احیاء اور امانت کی بھی ایک بحث تھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کا قول ربي الذي يُحي وَيُمِيتُ درج ہے اور جو کہ توحید باری تعالیٰ کے متعلق ایک عجیب فقرہ ہے جس کو ہمارے زمانہ سے بڑا تعلق ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی مردہ زندہ کئے تھے تو پھر ابراہیم علیہ السلام کا یہ استدلال کوئی قابلِ وقعت شئے نہیں ہو سکتا اور ان کا یہ کام اور کلام سب خاک میں مل جاتا ہے۔ ہاں ایک معنے کے رُو سے انبیاء بھی احیاء کرتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئ ہے اس لئے اس کا احیاء بھی لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْخ ہی ہوگا اور انبیاء کا احیاء اس سے کوئی لگا نہیں کھائے گا۔ یہ بالکل سچ ہے کہ احیاء موتی صرف رب کا ہی کام ہے اور وہ بھی کسی اور عالم میں ۔ انبیاء کے احیاء کے یہ معنے ہیں کہ بعض شریر لوگ جو کہ اُن کی پاکیزہ مجالس میں آتے رہتے ہیں