حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 595
حقائق الفرقان ۵۹۵ سُورَةُ الْبَقَرَة پھر عادت کی ظلمت ۔ ست ہے۔ یہ عادت بری بلا ہے ۔ جس چیز کی عادت پڑ جاوے وہ پیچھا نہیں چھوڑتی۔ بعض کو قصہ سننے کی دھت ہوتی ہے بعض کو ناول پڑھنے کی ۔ بعض کو چائے پینے کی ، حقہ پینے کی ، پان کھانے کی۔ پھر ظلمت سے شہوت ، حرص، غضب، سستی ، کاہلی ۔ پس یہ بات یا درکھو کہ جس تعلیم سے قوت ممیزہ بڑھے وہ سچی ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۶) مِنَ الظُّلُمتِ - ا۔ والدین کی ظلمت ۲- احباب کی ظلمت ۳۔ کفر و شرک کی ظلمت ۴۔ جہالت کی ظلمت ۵ محبت کی ظلمت ۶ - عجز وکسل کی ظلمت ۷۔ ظلم کی ظلمت ے۔ رسم و بدعت کی ظلمت ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۴) کوئی چیز روشنی کی جاذب ہی نہیں تو روشنی دیدار لینے میں امداد نہ کرے گی گو روشنی فی الحقیقت دیکھنے کا آلہ ہے۔ جب روشندان یا چراغ وغیرہ سے روشنی لے تو دوست کے دیدار سے وہ دیدار کا طالب آرام پاسکتا ہے۔ ایسا ہی دیدار اور دیدار سے آرام تو نجات ہے اور وہ روشنی فضل و کرم خداوندی ہے ۔ ایمان ایک روشندان یا چراغ ہے جو فضل کی روشنی کو کھینچتا ہے اور ایمان کو اس روشنی کا جاذب قرآن نے بھی کہا ہے ۔ الله وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ (البقرة: ۲۵۸) اللہ کام بنانے والا ہے ایمان والوں کا ۔ نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۹۲، ۲۹۳) اُجالے میں ۔ ۲۶۰،۲۵۹ - أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَ إِبْرَاهِمَ فِي رَبَّةَ أَنْ اللهُ اللهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ ابْراهِمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أَحْيِ وَ أَمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِمُ فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ - أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا ۚ قَالَ أَنَّى يُحْيِ هُذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ