حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 585
حقائق الفرقان ۵۸۵ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے جو إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ میں بیان ہوا ہے۔ پھر پاک کتاب کا کچھ حصہ پڑھے اور رکوع کرے اور غور کرے کہ میری عبودیت اور نیاز مندی کی انتہا بجر بسجدہ کے اور کوئی نہیں ۔ جب اس قسم کی نماز پڑھے تو وہ نیاز مندی اور سچائی جب اعضاء اور جوارح پر اپنا اثر کر چکی تو اور جوش مار کر ترقی کرے گی اور اس کا اثر مال پر پڑے گا۔ وحدت کی ضرورت اور ایک مقررہ حصہ اپنے مال کا دے گا جیسے آج کے دن بھی صدقۃ الفطر ہر شخص پر غنی ہو، جرہ ہو یا عبد ۔ غرض سب پر واجب ہے کہ وہ صدقہ دے تاکہ اوروں کے لئے طہر کا کام دے اور نماز سے پہلے ایک مقام پر جمع کرے۔ اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ وحدت پیدا ہو۔ اسلام کے ہر امر میں وحدت کی روح پھونکی ا گئی ہے۔ جب تک وحدت نہ ہو اس پر اللہ کا ہاتھ نہیں ہوتا جو جماعت پر ہوتا ہے۔ میں درختوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ اگر ایک ایک پتہ کہے کہ میں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں اور اپنے رب سے مانگتا ہوں وہ مجھے سرسبز کر دے گا ۔ کیا وہ الگ ہو کر سر سبز رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ مرجھا جائے گا اور ادنی سے جھونکے سے گر جائے گا اِس لئے ضروری ہے کہ ایک شاخ سے اس کا تعلق ہو اور پھر اس شاخ کا کسی ب شاخ سے اس کا تعلق ہو اور پھر اس شار سے بڑی شاخ سے اور اس کا کسی بڑے تنے سے تعلق ہو جو جڑ اور اس کی رگوں سے اپنی خوراک کو جذب ڈ کرے۔ یہ سچی مثال ہے۔ جب اللہ تعالی کسی چیز کا بیج لگا تا ہے تو جو شاخ اس سے الگ ہو کر بار آور اور ثمر دار ہونا چاہے وہ نہیں رہ سکتی خواہ اسے کتنے ہی پانی میں رکھو۔ وہ پانی اس کی سرسبزی اور شادابی کی بجائے اس کے سڑنے کا موجب اور باعث ہوگا ۔ پس وحدت کی ضرورت ہے اسی لئے صدقۃ الفطر بھی ایک ہی جگہ جمع ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید سے پہلے یہ صدقہ جمع ہو جاتا اور ایسے ہی زکوة کے اموال بڑی احتیاط سے اکٹھے کئے جاتے یہاں تک کہ منکرین کے لئے قتل کا فتوی دیا گیا ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے بھائیوں میں ابھی یہ وحدت پیدا نہیں ے کچھ شک نہیں کہ نماز روکتی ہے کھلی بے حیائی اور کار بد سے ( یہود اور نصاری بننے سے ) ۔ ( ناشر )