حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 577
حقائق الفرقان ۵۷۷ سُورَةُ الْبَقَرَة عظیم الشان اور پہلی مجزو ایمان باللہ ہے اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ ایمان کا سر چشمہ اور اس کی ابتدا اللہ پر یقین کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ ایمان باللہ کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ کو جمیع صفات کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسماء حسنی کا مجموعہ اور مسمی اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزہ یقین کرنا اور اس کے سواکسی شئی سے کوئی امید و بیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کا نڈ اور شریک نہ ماننا یہ ایمان باللہ ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف یقین کرتا ہے تو ایسے خدا سے وہی قرب اور تعلق پیدا کر سکتا ہے جو خوبیوں سے موصوف اور بدیوں سے پاک ہوگا۔ پس جس جس قدر انسان فضائل کو حاصل کرتا اور رذائل کو ترک کرتا ہے اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے قرب کے مدارج اور مراتب کو بڑھاتا اور اللہ تعالیٰ کی ولایت میں آتا جاتا ہے کیونکہ پاک کو گندے کے ساتھ قرب کی نسبت نہیں ہو سکتی اور جوں جوں رذائل کی طرف جھکتا اور فضائل سے ہٹتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو کر اُس کے فیضان ولایت ولا : سے دور اور مہجور ہوتا جاتا ہے۔ یہ ایک قابلِ غور اصل ہے اور اس کو کبھی بھی ہاتھ سے دینا نہیں چاہیے۔ صفات الہی پر غور کرو اور وہی صفات اپنے اندر پیدا کر و نتیجہ یہ ہو گا کہ قرب الہی کی راہ قریب ہوتی جائے گی اور اس کی قدوسیت اور سبحانیت تمہاری پاکیزگی اور طہارت کو اپنی طرف جذب کرے گی۔ بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں جو خود نا پاک اور گندی زیست رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیوں ہم کو قرب الہی حاصل نہیں ہوتا ؟ وہ نادان نہیں جانتے کہ ایسے لوگوں کو قرب الہی کیونکر حاصل ہو جو اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا نہیں کرتے ۔ قدوس خدا ایک نا پاک انسان سے کیسے تعلق پیدا کرے؟ ایمان بالملائکہ کی فلاسفی ایمان باللہ کے بعد دوسری جزو ایمان کی ایمان بالملائکہ ہے ۔ ایمان بالملائکہ کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے یوں سمجھ دی ہے کہ انسان کے دل پر ہر وقت ملک اور شیطان نظر رکھتے ہیں اور یہ امر ایسا واضح اور صاف ہے کہ اگر غور کرنے والی فطرت اور طبیعت رکھنے والا انسان ہو تو بہت جلد اس کو سمجھ لیتا ہے بلکہ موٹی عقل کے آدمی بھی معلوم کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح پر کہ بعض وقت یکا یک بیٹھے بٹھائے