حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 572
حقائق الفرقان ۵۷۲ سُورَةُ الْبَقَرَة كرسيه - گرمی کے معنے علم کے ہیں۔ بخاری میں یہ معنے موجود ہیں ۔ ایک شعر بھی یاد آ گیا۔ تَحَفُ بِهِ بِيْضُ الْوُجُوهِ وَ عُصْبَةٌ كَرَاسِي بِالْأَحْدَاثِ حِينَ تَنُوبُ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۶ امتی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۵) و ہماری مکرم کتاب صحیح بخاری میں جسے ہم کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب مانتے ہیں لکھا ہے کرسیه علمه، یعنی کرسی کے معنے علم کے ہیں ۔ پس معنی وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ (البقرة: ۲۵۶) کے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا علم تمام بلندیوں اور زمین کو وسیع و محیط ہو رہا ہے ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۲۱، ۱۲۲) ہر ایک عیب سے پاک ۔ تمام صفات کا ملہ کے ساتھ موصوف ۔ جس کا نام ہے اللہ ۔ اس کے بغیر کوئی بھی پرستش و فرمانبرداری کا مستحق نہیں ۔ دائم اور باقی تمام موجودات کا مدبر اور حافظ جس کو کبھی سستی ، اُونگھ اور نیند نہ ہو۔ اُسی کے تصرف اور ملک اور خلق میں ہیں۔ آسمان وزمین اُسی کی ہستی اور یکتائی کو ثابت کرتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں کہ اس کی کبریائی ، عظمت کے باعث اس پاک ذات کی پروانگی کے سواکسی کی سپارش بھی کر سکے۔ پس کسی کو مقابلہ و حمایت کی تو کیا سکت ہو گی ۔ وہ جانتا ہے تمام جو کچھ آگے ہوگا اور جو کچھ گزر چکا ہے۔ موجودات کی نسبت کیا کہنا ہے۔ کوئی بھی اس کے علم سے کسی چیز کا اس کی مشیت کے سوا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس کا کامل علم آسمانوں اور زمینوں پر حاوی ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت سے کبھی نہیں تھکتا ۔ وہ شریک اور جوڑ سے ہے بلند ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۵) ۲۵۷ - لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَ اللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ - ترجمہ ۔۔ دین میں کچھ زبردستی نہیں بے شک ہدایت گمراہی سے صاف صاف الگ ہو چکی ہے تو جو نہ مانے جھوٹے معبود کو اور اللہ ہی کو مانے تو البتہ اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ بڑا لے اس کے اردگرد خوبصورت لوگوں اور واقف حالات علماء کا گروہ جب وہ حالات وارد ہوں تو اکٹھا ہو جاتا ہے۔ (ناشر)