حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 569 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 569

حقائق الفرقان ۵۶۹ سُورَةُ الْبَقَرَة وَ أَيَّدُ لَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۔ اس اخلاقی تعلیم کو اپنے پاک کلام سے مؤید کیا ۔ روح القدس کبھی کلام لانے والے فرشتے کو بھی کہتے ہیں مگر عام معنے یہی ہیں۔ پاک کلام ۔ قرآن شریف میں ہے وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا (الشوری: ۵۳) ایک دوسری جگہ فرمایا - يُنَزِّلُ الْمَلَئِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا انَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ - (النحل : ٣) مَا اقْتَتَكَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ یعنی اگر کوئی لڑائی کرتا تو ہم اس کے ہاتھ کوشل کر دیتے۔ بد زبانی کرتا تو زبان بند کر دیتے ۔ مگر بندوں کو اللہ نے مجبور پیدا نہیں کیا اور نہ ان کے اختیارات کو چھینا بلکہ مقدرت عطا کی ہے۔ و لكن اخْتَلَفُوا - جب خدا نے جبر نہ کیا ۔ اختیارات نہ چھینے تو ان لوگوں نے تو اس مقدرت کے سبب شرارتیں کیں ۔ ہم زور سے کام لیتے تو وہ نہ لڑتے مگر جب ہم نے ہدایت پر مجبور نہ کیا تولڑ نے اور گمراہی پر کیوں مجبور کرنے لگے۔ فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ ۔ مگر کچھ ایسے تھے جنہوں نے ایمان کے مطابق عمل کیا۔ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ ۔ بعض ایسے تھے جنہوں نے امن میں خلل ڈالا ۔ امن کی تعلیم کا انکار کیا۔ وَ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا - جناب البی تو ایسی طاقت رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہ قدرت نہ دیتے ۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے کیونکہ وہ جبر کرنے والا نہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مؤرخه ۶ رمتی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۵) بدرقا فَضَّلْنَا - بحث فضیلت باعتبار تعلقات روحانی و خدمات دینی ۔ اللہ کو علم ہے۔ لے اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ہمارے حکم سے ہمارا کلام قرآن مجید ۔ ہے وہی اللہ اتارتا ہے فرشتوں کو کام دے کر آپ ہی جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کہ ڈرا دو یہ بتا کر کوئی سچا معبود نہیں مگر میں، تو مجھ سے کہ ڈرا دو یہ تو ہی کو سپر بناؤ مجھ ہی سے ڈرو۔ (ناشر)