حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 47
حقائق الفرقان ۴۷ سُورَةُ الْبَقَرَة بلکہ مؤید ہے اور پہلا مجاہد ہی کا قول ہے اور مؤید اس وجہ سے ہے کہ مجاہد وغیرہ نے جو معنے بیان کئے ہیں وہ وہی ہیں جو پہلے ہم بیان کر آئے ہیں اور ان کا مؤید ہونا ہم پہلے بیان کر آئے ہیں اور وضع یہاں پر مجاز کو بھی شامل ہے کہ جس کو وضع نوعی کہتے ہیں اور اصل معنوں کی تائید اس دلیل عقلی سے بھی ہوتی ہے جو کہ اس دور کے امام حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود علیہ السّلام نے بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک واقعی شئی کے لئے چار علتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک علت مادی کہ جس میں وہ شئی بننے کی استعداد اور قابلیت ہوتی ہے۔ دوم علت صوری کہ جس کے ساتھ وہ چیز موجود ہو جاتی ہے۔ سوم علت غائی۔ اور یہ وہ غرض اور فائدہ ہے کہ جو اس شئے پر مرتب ہوتا ہے اور اسی کے لئے وہ شئے بنائی جاتی ہے اور چہارم علت فاعلی ، اور یہ وہ ہے جو کہ اس شئے کو بنانے والی ہوتی ہے۔ تو یہاں پر علت مادی ذلِكَ الْكِتب ہے یعنی جو کہ اللہ کے علم میں ہے اور علت صوری لا ریب فِيهِ ہے اور علت غالَى هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے۔ اب باقی رہی علت فاعلی تو یقینا ثابت ہوتا ہے کہ اس کا بیان اللہ میں ہے۔ پس ثابت ہوا ا کہ الف ، ، لام ، میم میں اشارہ ہے اللہ ، لطیف ، معلم اور مرسل اور منزل کتاب کی طرف یا آنا اللهُ اَعْلَمُ کی طرف یعنی میں ہوں بہت جاننے والا اللہ ۔ پس اس دلیل عقلی سے بھی یہی ثابت ہے کہ ان حروف سے مراد اسماء الہی ہیں یا بالفاظ دیگر یوں کہنا چاہیے کہ یہ اللہ علیم کے ان پروانوں پر اپنے خاص دستخط ہیں ۔ ( رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۳ ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۹۵ تا ۹۹ ) ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۔ ترجمہ۔ یہ ایک کتاب ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں ۔ سیدھی راہ چلانے والی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو۔ تفسیر۔ وہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جو کہ سورۃ فاتحہ میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لوگوں کی طلب کی گئی تھی وہ بتلائی جاتی ہے کہ اگر تم انعامات الہی سے بہرہ ور ہونا چاہتے ہو تو یہ ہدایت نامہ جو کہ تم کو دیا جاتا ہے اس پر عمل کرو۔ البدر جلدا نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۹۶)