حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 44

حقائق الفرقان ママ سُورَةُ الْبَقَرَة اب چوتھی دلیل پر تیکش یوں ہے کہ کلمہ طیبہ - الله - ذَلِكَ الْكِتَبُ - لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ چار جملے ہیں ۔ چوتھا جملہ مطلب وغایت کو ادا کرتا ہے اور تیسر ا جملہ سروپ کو ۔ دوسرا جملہ ماده کتاب کو تو ب کو تو ان مشاہدات ثلاثہ سے یہ پتا یہ پتا لگا کہ پہلا جملہ اس کتاب کے متکلم ر متکلم و مصنف کا پتا دیتا ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحه ۳۲۵ تا ۳۳۱) حروف مقطعات کے معنے یہ حروف اسماء الہی کے ٹکڑے ہیں اور ان کے ساتھ اُن اسماء الہی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ جن کی یہ مجزو ہوتے ہیں اور یہ دعوے ہم از خود نہیں کرتے بلکہ حضرت علی اور ابن مسعود اور ابن عباس اور بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اور خیر التابعین فی التفسیر مجاہد اہد اور اور س سعید بن جبیر اور قتادہ اور عکرمہ اور حسن اور ربیع بن انس اور سدی اور شعبی اور اخفش اور تابعین کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہے کہ ان حروف کے ساتھ اسماء الہیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ کہ یہ ان اسماء الہی کے ابعاض اور اجزا ہیں اور ضحاک نے اس پر یہ استدلال کیا ہے کہ کلمہ کے بعض کو ذکر کر کے پورا کلمہ مراد لینا یہ عربوں کی عادت میں داخل ہے اور اس کی تائید کے لئے اُس نے کچھ اشعار پیش کئے ہیں بلکہ جو قرآن مجید کہ ہدایت اور شفا ہے اس میں بھی تم دیکھتے ہو کہ وقفوں کے رموز کے لئے حروف لکھے ہوئے ہو ہیں مثلاً مطلق کا نشان ط ہے اور جائز کا نشان ج ہے اور رکوع کا نشان حاشیہ پر ع ہے۔ اسی طرح کتب احاد بیه احادیث میں نا ۔ انا۔ نباح رموز ہیں ا ہیں اور علم کلام میں ہذا خلف کے عوض ہف ہوتا ہے اور کتب فقہ میں جحط وغیرہ رموز موجود ہیں اور کتب لغت میں لیں ۔ن_ض_ک_ف_ح بابوں کے رموز ہیں اور ت ۔ ع ۔ ج ۔ بلدہ اور معروف اور جمع کے رموز ہیں اور کتب طب میں مکد مِنْ كُلِّ وَاحِد کی رمز ہے۔ پس یہ سب رموز اس بات کے شاہد ناطق ہیں کہ یہ طریقہ اختصار عربوں میں دائر اور سائر ہے بلکہ قرآن مجید اور احادیث میں بھی موجود ہے اور اس زمانہ میں تو قریباً ہر ایک قوم میں اس کی اس قدر کثرت ہے کہ جس کے ثبوت پیش کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ۔